ملائیشین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی
- مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے ایران و دیگر ممالک سے بات چیت کی ہے، انور ابراہیم کا ایرانی صدر سے اظہار تشکر
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران، مصر، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے، جس کے بعد اب ملائیشین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں انور ابراہیم نے ملائیشین جہازوں کو راستہ دینے پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اس وقت ملائیشیا کے تیل بردار بحری جہازوں اور ان پر موجود عملے کی رہائی کے عمل میں ہیں، تاکہ وہ اپنا وطن واپسی کا سفر دوبارہ شروع کر سکیں۔
انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کے سلسلے میں ایران اور دیگر ممالک سے بات چیت کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے، کیونکہ ایران محسوس کرتا ہے کہ اسے بار بار دھوکہ دیا گیا ہے اور وہ اپنی قوم کے لیے واضح اور پابند سیکورٹی ضمانت کے بغیر امن کی جانب اقدامات قبول کرنا مشکل پاتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملائیشیا کی حکومت تیل کی قیمتوں پر سبسڈی برقرار رکھے گی، لیکن سپلائی میں تعطل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں سبسڈی والے ایندھن کے ماہانہ کوٹے میں کمی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اب صورتحال کو سنبھالنا ناگزیر ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، جنگ اور تیل و گیس کی سپلائی میں رکاوٹ کے تمام اثرات ہم پر بھی پڑ رہے ہیں۔


Comments