آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے، ایران کے نئے رہنما کا پہلے بیان میں عزم
- 'میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے میں ہرگز کوتاہی نہیں کریں گے'، مجتبیٰ خامنہ ای
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا۔ یہ ان کا اپنے مقتول والد کی جانشینی کے بعد پہلا رسمی خطاب ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کے پڑوسی ممالک کو اپنی سرزمین پر موجود تمام امریکی اڈے بند کر دینے چاہئیں، اور ایران ان پر حملے جاری رکھے گا۔
انہوں نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ ”میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے میں ہرگز کوتاہی نہیں کریں گے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم اپنا مؤثر دفاع جاری رکھیں اور دشمن کو پشیمان کریں! آبنائے ہرمز کو روکنے کے لیور کو استعمال کرتے رہنا چاہیے۔“ یہ گزرگاہ عالمی تیل کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے اہم ہے، جو ایران کے ساحل سے گزرتا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے بیان کو ویڈیو خطاب کے بجائے ایک اینکرپرسن نے کیوں پڑھ کر سنایا جبکہ اس حملے کے بعد سے، جس میں ان کے والد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای قتل کئے گئے تھے، اب تک ان کی کوئی تصویر بھی جاری نہیں کی گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے میں معمولی زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس حملے میں ان کی اہلیہ، بہن اور دیگر اہلِ خانہ بھی شہید ہو گئے۔
عراقی بندرگاہ میں ٹینکروں کو آگ لگ گئی
ان کے خطاب کے فوراً بعد انقلابی گارڈز نے اعلان کیا کہ ان کے احکامات کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا۔
جمعرات کو ایک عراقی بندرگاہ میں دو آئل ٹینکر اس وقت شعلوں کی لپیٹ میں آ گئے جب مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد سے لدی ایرانی کشتیوں نے انہیں نشانہ بنایا۔ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے والی کارروائیوں میں شدت کی علامت ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود سامنے آئی جس میں انہوں نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکہ پہلے ہی جنگ جیت چکا ہے۔
رائٹرز کی تصدیق شدہ تصاویر، جو بندرگاہ بصرہ کے ساحل سے فلمائی گئیں، میں جہازوں کو شدید نارنجی شعلوں میں گھرا دکھایا گیا جو رات کے وقت آسمان کو روشن کر رہے تھے۔ حملوں میں کم از کم ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا ہے۔
چند گھنٹے قبل خلیج میں مزید تین جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ان میں سے کم از کم ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی، جو ایک تھائی بلک کیریئر پر کیا گیا تھا اور اسے آگ لگا دی گئی۔ گارڈز کے مطابق اس جہاز نے ان کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔
اسی دوران جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے قریب ایک اور کنٹینر بردار جہاز نے اطلاع دی کہ اسے کسی نامعلوم ہتھیار نے نشانہ بنایا ہے۔
عالمی توانائی کی رسد متاثر
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی بمباری مہم سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً دو ہزار افراد مارے جا چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی رسد میں وہ خلل پیدا ہوا ہے جسے بین الاقوامی توانائی ایجنسی تاریخ کا سب سے بڑا تعطل قرار دے رہی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس دعوے کے برعکس کہ انہوں نے ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذخیرے کا بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے، جمعرات کو مزید ڈرونز کے کویت، عراق، متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے جنگ کے دوران اسرائیل پر راکٹوں کی اب تک کی سب سے بڑی بوچھاڑ کی، جس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت پر تازہ حملے کیے۔
تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں اس وقت کچھ کمی آئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا اور اسرائیل کے حملے بند نہیں ہوتے، وہ دنیا کی سب سے اہم توانائی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے تیل گزرنے نہیں دے گا۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ”ہم جیت چکے ہیں“
ٹرمپ نے اس ہفتے بارہا یہ کہہ کر توانائی کی منڈیوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عارضی ہوگا۔
تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ کیسے ختم ہوگی یا محصور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مقصد ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے، جبکہ ٹرمپ ایران سے ”غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے“ کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں اور اس کے رہنماؤں کے تعین کا اختیار بھی چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کینٹکی کے شہر ہیبرون میں ایک انتخابی طرز کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”بہت جلد یہ کہنا اچھا نہیں لگتا کہ آپ جیت گئے ہیں۔ لیکن ہم جیت گئے ہیں،“ انہوں نے کہا کہ ”پہلے ہی گھنٹے میں سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔“
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم جلدی نکلنا تو نہیں چاہتے، ہے نا؟ ہمیں کام مکمل کرنا ہوگا۔“
ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ تیل کی بلند قیمتوں سے امریکا کو فائدہ ہو رہا ہے، تاہم ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
امریکا خالص تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، لیکن وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل استعمال کرنے والا ملک بھی ہے اور تقریباً اپنے ہم پلہ یورپی یونین کے مقابلے میں دوگنا تیل استعمال کرتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو اس سے وسیع پیمانے پر مہنگائی جنم لے سکتی ہے۔
”سکیورٹی فورسز ہر جگہ موجود ہیں“
ایران کے اندر رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سڑکوں پر اپنی موجودگی مزید بڑھا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی صورتِ حال پر قابو رکھے ہوئے ہے۔
35 سالہ استاد ماجان نے تہران سے فون پر بتایا کہ ”سکیورٹی فورسز ہر جگہ ہیں، پہلے سے زیادہ۔ لوگ باہر نکلنے سے گھبرا رہے ہیں، لیکن سپر مارکیٹس کھلی ہوئی ہیں۔“
تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کی قیادت اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے اور فی الحال اس کے جلد گرنے کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔
اسرائیل اور امریکا کی ایرانیوں سے حکومت گرانے کی اپیل
اسرائیل اور امریکا نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے مذہبی حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دیں۔ بہت سے ایرانی تبدیلی چاہتے ہیں اور بعض نے جنگ کے پہلے ہی دن بزرگ سپریم لیڈر کے قتل پر کھلے عام خوشی بھی منائی، جبکہ سکیورٹی فورسز نے جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم ملک پر حملوں کے دوران اب تک کسی منظم حکومت مخالف سرگرمی کے آثار سامنے نہیں آئے۔
تہران طویل معاشی جھٹکا دینے کی حکمتِ عملی پر گامزن
مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات اس پیغام کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ ایران کی حکمتِ عملی اب امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے طویل معاشی جھٹکا پہنچانا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پسپا ہونے پر مجبور ہو جائیں۔ ایران کی فوجی کمان کے ایک ترجمان نے بدھ کو کہا تھا کہ دنیا کو 200 ڈالر فی بیرل تک تیل کی قیمتوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تیزی اس اعلان کے باوجود آئی کہ ایک دن پہلے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں تقریباً نصف حصہ امریکا کا ہوگا۔
یہ تیل کی منڈیوں میں اب تک کی سب سے بڑی مربوط مداخلت ہے۔ تاہم ان ذخائر کو جاری کرنے کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور یہ مقدار محصور آبنائے ہرمز سے صرف تقریباً تین ہفتوں کی سپلائی کے برابر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں پائیدار کمی کا واحد راستہ یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہو جائے۔
آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ ”تیل کی قیمتوں میں مستقل کمی اسی وقت ممکن ہے جب آبنائے ہرمز سے تیل کا بہاؤ دوبارہ شروع ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو منڈی کی نئی بلندیاں ابھی ہمارے سامنے آ سکتی ہیں۔“


Comments