BR100 Decreased By (-0.65%)
BR30 Decreased By (-1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.51%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.82%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.74 Decreased By ▼ -0.40 (-0.42%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 305.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.2%)
HUBC 199.95 Decreased By ▼ -1.47 (-0.73%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -1.76 (-1.89%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.49 Decreased By ▼ -4.42 (-1.95%)
PRL 91.24 Decreased By ▼ -1.78 (-1.91%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.57 Decreased By ▼ -0.23 (-2.95%)
TPLP 12.69 Decreased By ▼ -0.28 (-2.16%)
TRG 56.30 Decreased By ▼ -0.26 (-0.46%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

بھارت نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پیشِ نظر گیس کی سپلائی سخت کر دی، ریستورانوں نے بندش کا انتباہ دے دیا

  • مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت نے منگل کو قدرتی گیس اور ککنگ گیس کی فراہمی پر سخت کنٹرول نافذ کر دیا، یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث درآمدات میں رکاوٹ کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ریستورانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے وسیع پیمانے پر بندشیں ہو سکتی ہیں۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک چوتھا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) خریدار اور دوسرا سب سے بڑا مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی) خریدار ہے، جس میں سے زیادہ تر گیس مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کی جاتی ہے۔

وزارتِ پٹرولیم نے منگل کو جاری کردہ حکم نامے میں کہا کہ ”مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔“

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ نئے اصول برابری کے ساتھ تقسیم اور ترجیحی شعبوں کے لیے گیس کی دستیابی کو جاری رکھنے کو یقینی بنائیں گے۔

وزارت نے ہدایت کی کہ ایل این جی کی فراہمی کو گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹ سیکٹرز اور ایل پی جی کی پیداوار کے لیے ترجیح دی جائے۔

بھارت کے وزیرِ پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ گھریلو صارفین کو سستی اور بلا تعطل توانائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ”گھبراہٹ کی کوئی ضرورت نہیں“۔

لیکن وزارت کے مطابق دیگر شعبے، جن میں کھاد کے پلانٹس اور چائے کی صنعتیں شامل ہیں، اپنی ضروریات کا 70 تا 80 فیصد حصہ حاصل کریں گے، بشرطیکہ عملی دستیابی موجود ہو۔

گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پیٹرو کیمیکل پلانٹس اور پاور پلانٹس کو یا تو مکمل یا جزوی طور پر گیس کی فراہمی کم کر دی جائے گی۔

بھارتی صنعتوں میں کئی سرامکس اور ٹائل بنانے والی کمپنیاں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ گیس کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

پورے بھارت میں ریستوران اور ہوٹل بھی اپنے آپریشنز میں رکاوٹوں کے بارے میں خبردار ہو گئے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد کہ وزارت نے گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی۔

نیشنل ریستوران ایسوسی ایشن آف انڈیا نے کہا کہ حکومت کے حکم نامے کی وجہ سے ملک بھر میں ایل پی جی سپلائرز نے اشارہ دیا کہ ریستورانوں کو سپلائی بند کر دی جائے گی۔

ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ریستوران کی صنعت اپنے آپریشنز کے لیے زیادہ تر کمرشل ایل پی جی پر منحصر ہے۔ اس میں کسی بھی رکاوٹ سے زیادہ تر ریستورانوں کی تباہ کن بندش ہو سکتی ہے۔“

بنگلور کے ہوٹل انڈسٹری ایسوسی ایشن کے سربراہ پی سی راؤ نے کہا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے: ”گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور چھوٹے اداروں کے پاس صرف ایک سے دو دن کی گیس بچی ہے۔ بڑے اداروں کے پاس شاید تقریباً 10 دن کی مقدار موجود ہے۔ اب لوگ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے مینو میں تبدیلی یا کمی کرنے کی کوشش کریں گے۔“

Comments

Comments are closed.