ایران جنگ کے اثرات یورپ میں پہلے ہی حقیقت بن چکے، سربراہ یورپی یونین
- ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ دوسرے ہفتے میں داخل، پیر کو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئیں
یورپی یونین کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات یورپ میں محسوس ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور نیٹو اتحادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وان ڈیر لیین کے مطابق یہ علاقائی تنازع اب ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس نے عالمی تجارت اور شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر بند نہیں ہوئی، مگر وہاں سے جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ فراہم کرتی ہے۔
یورپی یونین کی سربراہ نے زور دیا کہ موجودہ افراتفری سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں اور یہ جنگ بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کے لیے بڑے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ انہوں نے ایران میں تبدیلی کی حمایت کے ساتھ ساتھ یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے مالی پیکیج کی فراہمی کے عزم کا بھی اعادہ کیا، تاکہ یورپی سلامتی اور ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔


Comments