آئی ایم ایف کی پاکستان کی مالیاتی کارکردگی کی تعریف
- آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں مدد فراہم کی ہے۔
یہ بات آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا عملہ (اسٹاف مشن) 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے پر مذاکرات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ ای ایف ایف معاہدے کے تحت ایک پروگرام جاری ہے اور توقع ہے کہ ایک اسٹاف ٹیم 25 فروری سے پاکستان کا دورہ شروع کرے گی تاکہ ای ایف ایف کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر بات چیت کی جا سکے۔
آئی ایم ایف کی عہدیدار نے بتایا کہ مالی کارکردگی مضبوط رہی جس کے دوران پاکستان نے مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کا 1.3 فیصد پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کیا ہے جو کہ پروگرام کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ہیڈ لائن افراطِ زر نسبتاً قابو میں رہی ہے جبکہ پاکستان نے مالی سال 2025 کے دوران 14 سالوں میں پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔
ساختی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ کا حوالہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، جن میں ٹیکس پالیسی کے ڈیزائن کو سادہ بنانا، پبلک پروکیورمنٹ کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا اور ایسیٹ ڈیکلیریشن کی شفافیت میں بہتری لانا شامل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments