امریکی کے ساتھ جوہری مذاکرات کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کی اسرائیل پر شدید تنقید
- ’’اسرائیل کے توسیعی منصوبے کا تقاضا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو عسکری، تکنیکی، معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور کیا جائے۔‘‘ عباس عراقچی
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اس بات پر تنقید کی ہے کہ ایران کے مطابق اسرائیل کو اپنی عسکری صلاحیت بڑھانے کی اجازت دینے والا ایک ’’حکمرانی کا اصول‘‘ ( ڈاکٹرائن آف ڈومینیشن) موجود ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک پر ہتھیار ختم کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
ان کے یہ بیانات امریکہ کے ساتھ دوبارہ ہونے والے جوہری مذاکرات کے ایک دن بعد سامنے آئے، جبکہ گزشتہ مذاکرات اس وقت ناکام ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ جون میں ایران کے خلاف انتہائی غیر معمولی بمباری کی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی۔
عباس عراقچی الجزیرہ فورم کانفرنس، قطر میں گفتگو کر رہے تھے، لیکن انہوں نے جمعے کے روز ہونے والے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
عراقچی نے کہا کہ ’’اسرائیل کے توسیعی منصوبے کے لیے ضروری ہے کہ ہمسایہ ممالک کمزور ہوں: عسکری، تکنیکی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس منصوبے کے تحت اسرائیل اپنی عسکری صلاحیت کو بغیر کسی حد کے بڑھا سکتا ہے… جبکہ دیگر ممالک سے ہتھیار ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ دوسروں پر دفاعی صلاحیت کم کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ دوسروں کو سائنسی ترقی کے لیے سزا دی جاتی ہے۔“
عراقچی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’یہ حکمرانی کا اصول ہے۔“
12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے سینئر عسکری حکام، جوہری سائنسدانوں اور تنصیبات کے علاوہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ بعد میں امریکہ نے اہم جوہری تنصیبات پر اپنی حملے کیے۔
اس وقت ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے ردعمل ظاہر کیا، اور خطے میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جو قطر میں واقع ہے۔
جمعے کے روز عراقچی نے مسقط میں امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ غیر مستقیم جوہری مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی۔
اعلیٰ ایرانی سفارتکار نے بعد میں ماحول کو ’’بہت مثبت‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات ’’بہت اچھے‘‘ رہے، اور دونوں فریق مزید مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہوئے۔
یہ مذاکرات اس پس منظر میں ہوئے کہ واشنگٹن نے حالیہ مہینے میں ایران کی مہلک سرکاری مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے بعد خطے میں ایک ائیرکرافٹ کیریئر گروپ بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ عسکری گروہوں کے مسائل کو مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی، جنہیں اسرائیل بھی مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
تاہم، تہران نے بار بار جوہری مسئلے سے آگے مذاکرات کے دائرہ کار کو بڑھانے کی پیشکش مسترد کی ہے۔


Comments