وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے جمعہ کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی نو منتخب قیادت نے ملاقات کی جس کی سربراہی چیئرمین کبیر احمد سدھو اور کمشنر علی فرید خواجہ کررہے تھے، ملاقات کا مقصد کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے، مالی اعانت کے ذرائع میں تنوع لانے اور ریگولیٹری و ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کیلئے ترجیحات کا تعین کرنا تھا۔
وزارتِ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں وزیرِ خزانہ کی فنانس ڈویژن کی بنیادی ٹیم بھی شریک تھی جس میں قرضوں کے انتظام، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور ریگولیٹری کوآرڈینیشن کی نگرانی کرنے والے سینئر افسران شامل تھے۔
وزیرِ خزانہ نے ایس ای سی پی کی نئی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کا مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوں کا وسیع تجربہ پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنائے گا اور کیپٹل مارکیٹس کی ترقی میں تیزی لائے گا۔
ملاقات کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے، سرکاری اور نجی شعبوں کے لیے مالی اعانت کے ذرائع میں تنوع لانے اور موثر ریگولیشن، جدید انفرااسٹرکچر اور مربوط پالیسی اقدامات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے کے لیے ترجیحات کے تعین پر مرکوز تھی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے ذریعے اصلاحات کے ایک زیادہ مربوط طریقہ کار کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے ٹی او آرز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس کا مقصد مخصوص اداروں تک محدود انفرادی کوششوں کے بجائے ایک ایسی افقی اور ہمہ گیر حکمتِ عملی اپنانا ہے جو پورے مارکیٹ سسٹم کی ترقی کا ایجنڈا پیش کرے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ اس کا مقصد مختلف مارکیٹ اداروں میں پہلے سے حاصل شدہ پیش رفت سے فائدہ اٹھانا ہے جب کہ ان خلاؤں کو پُر کرنا ہے جن کے لیے ریگولیٹری اصلاحات، قانون سازی کی حمایت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
گفتگو کا ایک بڑا مرکز پاکستان کی ڈیٹ کیپٹل مارکیٹس کی ترقی تھی۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مالی اعانت کے بنیادی ذریعے کے طور پر بینکوں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے اور اثاثہ جات و واجبات کے بہتر انتظام کے اصولوں کے مطابق انشورنس کمپنیوں، ایسٹ منیجرز، پنشن فنڈز اور چھوٹے سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسیع کیا جائے۔
فنانس ڈویژن نے فرنٹ، مڈل اور بیک آفس کے افعال اور واجبات کے انتظام کے آپریشنز میں بہتری کے ذریعے مقامی قرضوں کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے جاری کام سے آگاہ کیا۔ بیان میں نوٹ کیا گیا کہ اگلے مرحلے کے لیے مارکیٹ کی گہرائی اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ایس ای سی پی کے ساتھ قریبی تعاون درکار ہے۔
شرکاء نے مارکیٹ میں رکاوٹوں اور درمیانی اخراجات میں کمی کو ایک کلیدی ترجیح قرار دیا۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مارکیٹ کے ڈھانچے کو ہموار کرنا، (بانڈز وغیرہ) جاری کرنے کے عمل کو بہتر بنانا اور سیکنڈری مارکیٹ کی کارکردگی کو بڑھانا قرض لینے والوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان بہتر تعلق قائم کرنے اور مارکیٹ کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔
اجلاس میں اکاؤنٹ کھولنے کے تیز رفتار اور حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل طریقہ کار، خطرے کی بنیاد پر کے وائی سی اور مالیاتی اداروں کے درمیان باہمی رضامندی سے کے وائی سی کی منتقلی کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کیلئے مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے کو ترجیح قرار دیا گیا تاکہ غیر رسمی یا غیر منظم شدہ ذرائع سے ہونے والی سرمایہ کاری کو باقاعدہ کیپٹل مارکیٹ کی طرف موڑا جاسکے۔
ایس ای سی پی کی قیادت نے این بی ایف سیز، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے فنانسنگ اور انشورنس کے ریگولیٹری فریم ورکس پر اپنی ابتدائی مشاہدات شیئر کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان ڈھانچوں پر نظرثانی اور انہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ احتیاطی نگرانی برقرار رکھتے ہوئے مالی وسائل تک رسائی میں مدد مل سکے۔ گفتگو میں ایک ایسے ریگولیٹری طریقہ کار پر زور دیا گیا جو کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنائے، غیر ضروری طریقہ کار کی تاخیر کو کم کرے اور ڈیجیٹل آلات کے ذریعے قوانین کی پاسداری کو فروغ دے۔
ایکویٹی مارکیٹ کے حوالے سے اجلاس میں آئی پی او کی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار کا خیرمقدم کیا گیا اور ایکویٹی کیپٹل مارکیٹ کے لین دین میں شرکت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے سرمایہ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنے والے اداروں کی تعداد بڑھانے، مقابلے کی فضا کو بہتر بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا کہ مارکیٹ کے انفراسٹرکچر میں اتنی گنجائش موجود ہو کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے بڑھتے ہوئے شیئرز کے اجراء کو سنبھال سکے۔
سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع کو نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے لیے ایک اہم چینل قرار دیا گیا۔
اجلاس میں اس ضرورت کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ریگولیٹڈ فنڈ اسٹرکچرز (منظم شدہ فنڈز) محض غیر فعال یا صرف ٹیکس بچانے کا ذریعہ رہنے کے بجائے حقیقی سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوں۔
حکومت کے نجکاری ایجنڈے میں پبلک کیپٹل مارکیٹس کے کردار پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ اور مارکیٹ کی بنیاد پر قیمت کا تعین، سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسیع کر کے، قیمتوں کی شفافیت کو بہتر بنا کر اور جہاں مناسب ہو، کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنا کر اسٹریٹجک لین دین میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کہ ڈیجیٹل اثاثہ جات اور ٹوکنائزیشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
“فنانس ڈویژن نے شرکاء کو ابتدائی مرحلے کے اس کام پر بریفنگ دی جس میں حکومتی قرضوں کی ’ٹوکنائزیشن کا بطور ایک ممکنہ استعمال جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع اور ادائیگیوں و تصفیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
گفتگو میں توقعات کے انتظام کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ ٹوکنائزیشن سرمایہ کاروں کی بنیادی طلب کا متبادل نہیں ہے اور یہ کہ اس کی کامیابی کے لیے مضبوط ریگولیشن، سرمایہ کاروں کی آگاہی اور اداروں کی استعداد کار بنیادی شرائط ہیں۔


Comments