آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ کم کر دیا
- رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا اندازہ 3.2 فیصد کر دیا گیا
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی نمو کے تخمینے میں کمی کرتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا اندازہ 3.2 فیصد کر دیا ہے، جو اکتوبر 2025 کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں لگائے گئے 3.6 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ ’’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2026 اپ ڈیٹ: عالمی معیشت، مختلف قوتوں کے درمیان مستحکم‘‘ میں اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی نمو 2025 میں 3 فیصد رہی، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 3.2 فیصد ہونے کی توقع ہے جبکہ 2027 میں اس کے 4.1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ مالی سال 2025–26 میں 3 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی، جس کے بعد مالی سال 2026–27 میں یہ بڑھ کر 3.4 فیصد ہو سکتی ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے مالی سال 2024–25 کے دوران جی ڈی پی کی نظرثانی شدہ شرح نمو 3.09 فیصد منظور کی ہے۔ کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025–26 کی پہلی سہ ماہی میں معیشت نے 3.71 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معاشی نمو 2026 میں 3.3 فیصد اور 2027 میں 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو 2025 میں اندازہ شدہ 3.3 فیصد کے قریب ہے۔ یہ پیش گوئی اکتوبر 2025 کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے مقابلے میں 2026 کے لیے معمولی بہتری جبکہ 2027 کے لیے بغیر کسی تبدیلی کے ہے۔
بظاہر یہ استحکام مختلف متضاد عوامل کے توازن کا نتیجہ ہے۔ تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو ٹیکنالوجی، بالخصوص اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری میں اضافے سے حاصل ہونے والی معاون طاقت نے کسی حد تک زائل کیا ہے۔ یہ رجحان دیگر خطوں کے مقابلے میں شمالی امریکا اور ایشیا میں زیادہ نمایاں ہے، جبکہ مالی اور زری معاونت، مجموعی طور پر سازگار مالی حالات اور نجی شعبے کی موافقت پذیری بھی اس استحکام میں کردار ادا کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر مجموعی افراطِ زر 2025 میں اندازاً 4.1 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 3.8 فیصد اور 2027 میں مزید کم ہو کر 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ افراطِ زر سے متعلق یہ اندازے اکتوبر کی پیش گوئیوں کے قریب ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا میں مہنگائی دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں ہدف تک واپس آنے میں زیادہ وقت لے سکتی ہے۔
معاشی منظرنامے کو درپیش خطرات اب بھی زیادہ تر منفی پہلو کی جانب جھکے ہوئے ہیں۔ اے آئی کے حوالے سے پیداواری صلاحیت کے تخمینوں پر نظرثانی سرمایہ کاری میں کمی اور مالی منڈیوں میں اچانک اصلاح کا باعث بن سکتی ہے، جو اے آئی سے وابستہ کمپنیوں سے نکل کر دیگر شعبوں تک پھیل سکتی ہے اور مقامی دولت کو متاثر کر سکتی ہے۔
تجارتی کشیدگیاں دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہیں، جس سے غیر یقینی صورتحال طویل ہو گی اور معاشی سرگرمیوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔ داخلی سیاسی کشیدگیاں یا جغرافیائی سیاسی تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیں، جو مالی منڈیوں، سپلائی چینز اور اجناس کی قیمتوں پر اثر انداز ہو کر عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بڑے مالیاتی خسارے اور بلند عوامی قرضے طویل المدتی شرح سود پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی مالی حالات بھی سخت ہو سکتے ہیں۔
مثبت پہلو پر دیکھا جائے تو اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری میں مزید اضافہ معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے سکتا ہے اور اگر اے آئی کا تیز تر استعمال مضبوط پیداواری بہتری اور کاروباری حرکیات میں اضافے کا باعث بنا تو یہ پائیدار نمو میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تجارتی کشیدگی میں مستقل کمی بھی معاشی سرگرمیوں کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
استحکام کے فروغ اور درمیانی مدت میں پائیدار معاشی نمو کے لیے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مالیاتی ذخائر کی بحالی، قیمتوں اور مالیاتی استحکام کے تحفظ، غیر یقینی صورتحال میں کمی اور ساختی اصلاحات کے فوری نفاذ پر مرکوز ہوں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments