اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار پوائنٹس کی سطح کے قریب بند
- بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 183,951.50 پوائنٹس کی سطح پر بند
گزشتہ روز کے دباؤ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) میں زبردست تیزی کا رجحان بحال ہوا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس منگل کو 1,500 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے بعد 184,000 پوائنٹس کے قریب بند ہوا۔ مارکیٹ میں اس بھرپور تیزی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے کا اشارہ ملا اور خریداری کے رجحان میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔
کاروباری دن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافہ کے ساتھ کھلا لیکن ابتدائی سیشن میں 184,000 پوائنٹس کے لگ بھگ سے گر کر 180,589.95 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا، جس سے منافع سمیٹنے کا رجحان ظاہر ہوا۔
کے ایس ای 100انڈیکس دن بھر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور سرمایہ کاروں کے ملے جلے رجحان کی عکاسی کی۔ دوپہر کے بعد انڈیکس نے بھرپوررجحان دکھایا اور انٹرا ڈے کے دوران بلند تریں سطح 184,304.86 پوائنٹس تک جا پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 183,951.50 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو 1,567.36 پوائنٹس یا 0.86 فیصد کے اضافے کے برابر ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ” اہم انڈیکس ہیوی ویٹس، بشمول لک،ایم سی بی،این بی پی ،یو بی ایل اور ایم ای بی نے اہم سہارا فراہم کیا، جنہوں نے مشترکہ طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 936 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ” دریں اثناء سازای ڈبلیو اور ہیلوئن اور ایف ایف سی میں کمی نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 158 پوائنٹس کی کمی کا سبب بنی۔“
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، بعدازاں منافع خوری کے باعث مارکیٹ مندی کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار کی حد سے گر کرانٹرا ڈے کم ترین سطح 180,589.95 پوائنٹس تک آ گیا۔
انڈیکس میں پورے دن اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جو سرمایہ کاروں کے ملے جلے ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم دوپہر کے بعد سے انڈیکس میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا، اور یہ کاروبار کے دوران دن کی بلند ترین سطح 184,304.86 پوائنٹس تک جا پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,567.36 پوائنٹس یا 0.86 فیصد اضافے سے 183,951.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایک اہم پیش رفت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری برادری سے کہا ہے کہ وہ صاحبِ حیثیت طبقے پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کرنے کے لیے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کرے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے کاروباری اور تجارتی حلقوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔
یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 2,025.52 پوائنٹس یا 1.1 فیصد کی کمی سے 182,384.15 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جاپانی حصص میں تیزی کے باعث منگل کو ایشیائی منڈیاں بلند رہیں، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق توقعات پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط دکھائی دیا۔ تاہم، فیڈرل ریزرو کی خودمختاری سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ڈالر پر دباؤ ڈالا، جبکہ سونے کے حق میں رجحان رہا۔
شیئر مارکیٹوں میں جاپان کا نِکئی انڈیکس تعطیلات کے بعد 3.4 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا، جس کی وجہ کمزور ین اور مالیاتی محرک (فِسکل اسٹیملس) سے متعلق توقعات رہیں۔ جنوبی کوریا اور تائیوان کی مارکیٹیں بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ چین کے بلیو چِپ شیئرز چار سال کی بلند ترین سطح پر جا پہنچے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔
یورپی منڈیوں میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا، ڈی اے ایکس فیوچرز 0.1 فیصد بڑھے، جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے رہے۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد کمی اور نیس ڈیک فیوچرز میں 0.3 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ امریکی صارف قیمتوں کے دسمبر کے اہم اعداد و شمار کے اعلان سے قبل مارکیٹ محتاط رہی۔ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ سالانہ بنیادی مہنگائی 2.7 فیصد تک بڑھ جائے گی، حالانکہ گولڈمین سیکس کے تجزیہ کار 2.8 فیصد کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبارکے اختتام پر مقامی کرنسی 280.00 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا معمولی فائدہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر لین دین کی حجم 1,058.8 ملین سے کم ہو کر 1,037.3 ملین ہو گئی۔ تاہم، شیئرز کی مالیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 48.24 ارب روپے سے بڑھ کر 62.70 ارب روپے ہو گئی۔
بینک آف پنجاب سب سے زیادہ حجم والا اسٹاک رہا جس میں 73.89 ملین شیئرز کا لین دین ہوا، اس کے بعد میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے 67.42 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 43.45 ملین شیئرز آئے۔
منگل کو مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 177 میں اضافہ، 265 میں کمی اور 38 کے حصص میں استحکام رہا۔



Comments
Comments are closed.