پاک ایران تجارت، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی وزارتِ تجارت کو رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت
- کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں وزارتِ تجارت نے دو طرفہ تجارت کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارتِ تجارت کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان متوازن، شفاف اور قانونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے درپیش آپریشنل، لاجسٹک اور ریگولیٹری مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں وزارتِ تجارت نے دو طرفہ تجارت کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی، جس میں حالیہ پیش رفت کے ساتھ ساتھ درپیش مسلسل چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا۔ وزارت تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ اگرچہ ایران سے اسٹیل کی درآمد کی اجازت دی جا چکی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ملک کے اندر اسٹیل بنانے والی صنعت کو نقصان پہنچا ہے اور کئی یونٹس بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
وزارت تجارت نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ تجارت امریکی پابندیوں کے باعث ایک حساس معاملہ بنی ہوئی ہے، جس کے ساتھ اسمگلنگ اور غیر دستاویزی لین دین کے خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان کو آگاہ کیا گیا کہ تجارتی اعداد و شمار کا محتاط انداز میں جائزہ لیا جانا چاہیے، کیونکہ تجارت کا ایک بڑا حصہ اب بھی رسمی بینکاری نظام سے باہر ہو رہا ہے۔ بتایا گیا کہ بھاری رقوم غیر رسمی ذرائع سے منتقل کی جا رہی ہیں، جو کسٹمز چیک پوسٹس، ایس آر او تقاضوں اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی نگرانی سے باہر ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان اور ایران کے درمیان زیادہ تر تجارت بارٹر نظام کے تحت ہو رہی ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں سیاسی تعلقات اور سفارتی روابط میں بہتری آئی ہے، تاہم ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں اب بھی تجارت میں حائل ہیں۔ وزارت تجارت کے مطابق ایران نے چاول اور آم کی پاکستانی برآمدات پر پابندی نما اقدامات عائد کر رکھے ہیں، جبکہ لاجسٹک مسائل بھی برقرار ہیں اور پاکستانی ٹرانسپورٹرز کو صرف تافتان تک جانے کی اجازت ہے۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران کمرشل سفارت کاری کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا گیا، جس کے تحت 17 مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 150 پاکستانی تاجروں نے دو طرفہ سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن میں چاول، پھل، سبزیاں، پلاسٹکس اور پولیمرز شامل ہیں۔ تاہم کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے نشاندہی کی کہ برآمدات اور درآمدات کی اجازت اب بھی صرف ایک نامزد فرد تک محدود ہے، جس پر نظرثانی کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کی منتظر ہے۔
وزارت تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان ایران مشترکہ اقتصادی فورم کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ ایرانی کسٹمز کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی ایران کو برآمدات 2.706 ارب ڈالر جبکہ ایران سے درآمدات 2.422 ارب ڈالر رہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ تمام تجارتی سرگرمیاں سختی سے رسمی ذرائع سے کی جائیں اور اس ضمن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خارجہ سے مشاورت بھی ضروری ہے، جبکہ کوئٹہ تافتان روٹ پر تاجروں کے سکیورٹی خدشات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments