پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر تیزی سے چند بڑی کمپنیوں (ہیوی اسٹاک) کا غلبہ بڑھ رہا ہے جہاں مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سرفہرست 10 لسٹڈ کمپنیوں کی مالیت 2025 کے اختتام تک اب ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے مسلسل تیسرے سال دوہرے ہندسوں میں منافع فراہم کیا ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی جاری ہونے والی رپورٹ بعنوان پاکستان اسٹریٹجی 2026: دی ایکویٹی ایج کنٹینیوز کے مطابق کیلنڈر ایئر 2023 میں 54.5 فیصد، 2024 میں 84.3 فیصد اور 2025 تک کے سال میں مزید 48.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شاندار کارکردگی کی بنیاد کمپنیوں کے مضبوط منافع، مقامی سطح پر سرمائے کی وافر دستیابی، مرکزی بینک کی ترقی پسندانہ پالیسی اور کمپنیوں کے ادغام (ایم اینڈ اے) و حصص کے نئے اجرا (آئی پی او) کی سرگرمیوں میں تیزی پر ہے، توقع ہے کہ یہی رجحانات 2026 میں بھی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔
کے ایس ای-100 انڈیکس جسے مارکیٹ کی کارکردگی کے لیے ایک پیمانہ (بینچ مارک) سمجھا جاتا ہے، اس میں اضافے کے پیشِ نظر بزنس ریکارڈر ان کمپنیوں کی فہرست جاری کررہا ہے جن کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (مجموعی مالیت) سب سے زیادہ ہے۔
یہاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی سب سے اہم 10 کمپنیوں کی فہرست پیش کی جارہی ہے۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) (4.15 ارب ڈالر)
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اور پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنی ہے جس کی سرگرمیوں میں (تیل و گیس کی) تلاش، ڈرلنگ آپریشنز سروسز، پیداوار، ذخائر کا انتظام (ریزروائر مینجمنٹ) اور انجینئرنگ سپورٹ شامل ہیں۔
کمپنی کے پاس پاکستان میں تلاش (ایکسپلوریشن) کا وسیع ترین رقبہ موجود ہے، جو ملک کے الاٹ کردہ کل رقبے کے 40 فیصد سے زائد حصے پر محیط ہے جہاں سے تیل اور گیس کے خالص ہائیڈرو کاربنز حاصل ہوتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان 67 فیصد سے زائد حصص کے ساتھ اوجی ڈی سی کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے جس کے بعد او جی ڈی سی ایمپلائی ایمپاورمنٹ ٹرسٹ اور پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
پی ایس ایکس پر کمپنی کے پروفائل کے مطابق یہ کمپنی 23 اکتوبر 1997 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 (جو اب کمپنیز ایکٹ 2017 ہے) کے تحت رجسٹرڈ کی گئی تھی۔
کمپنی کا قیام تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش اور ترقی کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جس میں تیل و گیس کی پیداوار، فروخت اور ان سے متعلقہ وہ تمام سرگرمیاں شامل ہیں جو اس سے قبل آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن سرانجام دے رہی تھی، جو کہ 1961 میں قائم کی گئی تھی۔
او جی ڈی سی نے مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے منافع میں 7 فیصد کمی کی اطلاع دی جس کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی، خام تیل کی پیداوار میں معمولی گراوٹ اور گیس کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کے باعث آمدنی میں ہونے والی 9 فیصد کمی ہے۔ عرب لائٹ (خام تیل) کی اوسط قیمت 70 ڈالر فی بیرل کی نچلی سطح پر رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 80 ڈالر سے زائد تھی۔ اس کے باوجود، کمپنی کا مجموعی منافع تقریباً 59 فیصد پر مستحکم رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اوجی ٰڈی سی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 4.15 ارب ڈالر ہے۔
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) ( 3.69 ارب ڈالر)
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ پاکستان کے سب سے بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک ہے۔
یہ بینک بیسٹ وے (ہولڈنگز) لمیٹڈ کا ذیلی ادارہ ہے جو کہ مکمل طور پر بیسٹ وے گروپ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔
بینک کے تازہ ترین مالیاتی نتائج کے مطابق یو بی ایل نے 9 ماہ کے اختتام پر 2025 میں 34.7 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا جو سالانہ 36 فیصد کا اضافہ ہے اور فی شیئر آمدنی 13.86 روپے تک پہنچ گئی۔
بینک نے 8 روپے فی شیئر کا ایک اور عبوری کیش ڈیوڈنڈ بھی اعلان کیا جس کے ساتھ سالانہ مجموعی تقسیم 27.5 روپے فی شیئر تک پہنچ گئی جو بینکاری صنعت میں سب سے زیادہ میں شمار ہوتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یو بی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 3.69 ارب ڈالر ہے۔
ماری انرجیز لمیٹڈ (ماری) (3.01 ارب ڈالر)
ماری انرجیز لمیٹڈ سندھ کے ڈھرکی میں واقع ماری گیس فیلڈ میں ملک کے سب سے بڑے گیس ذخیرے کو آپریٹ کرکے قدرتی گیس کی پیداوار میں پاکستان کی دوسری سب سے بڑی کمپنی ہے۔
یہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو 1984 میں پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئی، اور ایک مربوط تیل و گیس ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنی ہے، جس کی ایکسپلوریشن میں کامیابی کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو ملکی اوسط 33 فیصد اور بین الاقوامی اوسط 14 فیصد سے کافی زیادہ ہے۔
ماری کے اہم صارفین میں کھاد ساز کمپنیاں، پاور جنریشن کمپنیاں، گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
ماری انرجیز لمیٹڈ نے مالی سال 2025 میں 65.38 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا جو گزشتہ مالی سال کے 77.29 ارب روپے کے منافع کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زائد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ماری کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 3.01 ارب ڈالر ہے۔
فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) (2.97 ارب ڈالر)
فوجی فرٹیلائزر کمپنی پاکستان میں کھاد تیار کرنے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔
ایف ایف سی ایک پبلک کمپنی ہے جو پاکستان میں کمپنیز ایکٹ 1913 (جو اب کمپنیز ایکٹ 2017 ہے) کے تحت رجسٹرڈ کی گئی تھی۔
کمپنی کی بنیادی سرگرمی کھادوں اور کیمیکلز کی تیاری، خریداری اور مارکیٹنگ ہے جس میں دیگر کھادوں، کیمیکلز، سیمنٹ، بجلی کی پیداوار، فوڈ پروسیسنگ اور بینکنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی مدت کے دوران ایف ایف سی کا خالص منافع 57.6 ارب روپے رہا جو پچھلے سال اسی مدت کے 50.6 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے جب کہ فی شیئر آمدنی 40.5 روپے رہی۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پہلے ہی ادا کیے گئے 19 روپے فی شیئر ڈیوڈنڈ کے علاوہ تیسرا عبوری ڈیوڈنڈ 9.5 روپے فی شیئر بھی اعلان کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایف ایف سی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.97 ارب ڈالر ہے۔
میزان بینک لمیٹڈ (ایم ای بی ایل) (2.84 ارب ڈالر)
میزان بینک لمیٹڈ جو پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا اسلامی بینک ہے، ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جو 1997 میں ملک میں قائم کی گئی تھی۔
بینک نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پہلا باقاعدہ اسلامی کمرشل بینکنگ لائسنس جاری ہونے کے بعد 2002 میں اپنی کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس وقت بینک کارپوریٹ، کمرشل، کنزیومر، انویسٹمنٹ اور ریٹیل بینکنگ کی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہے۔
میزان بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق بینک کا ملک بھر میں 1,000 سے زائد شاخوں کا ریٹیل بینکنگ نیٹ ورک موجود ہے۔ اس شاخ نیٹ ورک کی معاونت کے لیے 950 سے زائد اے ٹی ایم، ویزا اور ماسٹرکارڈ ڈیبٹ کارڈز، کال سینٹر، انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل ایپلیکیشن اور ایس ایم ایس بینکنگ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
میزان بینک نے 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے 23.38 ارب روپے کا مجموعی بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 26.21 ارب روپے کے منافع کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میزان بینک کی مجموعی مارکیٹ مالیت (مارکیٹ کیپٹلائزیشن) 2.84 ارب ڈالر ہے۔
لکی سیمنٹ ( 2.54 ارب ڈالر)
لکی سیمنٹ پاکستان کے سب سے بڑے سیمنٹ ساز اداروں میں سے ایک ہے۔
کمپنی 18 ستمبر 1993 کو پاکستان میں کمپنیز آرڈیننس، 1984 (اب کمپنیز ایکٹ، 2017) کے تحت قائم کی گئی۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی سیمنٹ کی تیاری اور مارکیٹنگ ہے۔
لکی سیمنٹ نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 23.56 ارب روپے کا منافع بعد از ٹیکس (PAT) ریکارڈ کیا، جو پچھلے سال کی اسی سہ ماہی کے 19.8 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ہے، جس کی وجہ آمدنی میں اضافہ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لکی سیمنٹ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.54 ارب ڈالر ہے۔
پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) (2.21 ارب ڈالر)
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ ملک میں قدرتی گیس کی کلیدی فراہم کنندہ کمپنی ہے۔ یہ ایک بڑی اور نمایاں ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنی ہے جو تیل اور قدرتی گیس کے وسائل کی تلاش، پروسپیکٹنگ، ترقی اور پیداوار میں مصروف ہے۔
کمپنی ملک کی مجموعی قدرتی گیس کی فراہمی میں 20 فیصد سے زائد حصہ ڈالتی ہے، اس کے علاوہ خام تیل، نیچرل گیس لیکوئڈ (این جی ایل) اور لیکوئفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) بھی پیدا کرتی ہے۔
30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے پی پی ایل کا بعد از ٹیکس منافع 22 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 89.95 ارب روپے رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پی پی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 2.21 ارب ڈالر ہے۔
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) (1.87 ارب ڈالر)
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) ملک کے سب سے بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک ہے۔
این بی پی کو پاکستان میں نیشنل بینک آف پاکستان آرڈیننس، 1949 کے تحت قائم کیا گیا۔ بینک پاکستان اور بیرون ملک کمرشل بینکنگ اور متعلقہ خدمات فراہم کرتا ہے۔
بینک حکومتِ پاکستان کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ٹریژری لین دین بھی انجام دیتا ہے۔
تازہ ترین مالیاتی نتائج کے مطابق این بی پی نے 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 23.26 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا جو پچھلے سال کے مقابلے میں 650 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں این بی پی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.87 ارب ڈالر ہے۔
حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) (1.68 ارب ڈالر)
حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان اور بیرون ملک کمرشل بینکنگ سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔
آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ (اے کے ایف ای ڈی) بینک کی پیرنٹ کمپنی ہے جس کا رجسٹرڈ دفتر جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔
تازہ ترین مالیاتی نتائج کے مطابق ایچ بی ایل نے 2025 کے پہلے9 مہینوں کے لیے 112.2 ارب روپے کا ریکارڈ قبل از ٹیکس منافع رپورٹ کیا جو پچھلے سال کے اسی عرصے سے 31 فیصد زیادہ ہے۔
بینکنگ سیکٹر پر زیادہ ٹیکس کے باوجود بعد از ٹیکس منافع 19 فیصد بڑھ کر 51.4 ارب روپے ہو گیا۔
26 دسمبر 2025 کو اس کا شیئر 321.33 روپے پر بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایچ بی ایل کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.68 ارب ڈالر ہے۔
ایم سی بی بینک لمیٹڈ (ایم سی بی) (1.58 ارب ڈالر)
ایم سی بی بینک پاکستان کے سب سے بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک ہے۔
بینک نے 2025 کی تیسری سہ ماہی کے لیے 29.42 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع رپورٹ کیا جس کے بعد 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والے نو ماہ کا مجموعی قبل از ٹیکس منافع 87.48 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
بعد از ٹیکس منافع 41.10 ارب روپے رہا جس کے نتیجے میں فی شیئر آمدنی 34.68 روپے رہی جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں یہ 40.88 روپے تھی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایم سی بی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.58 ارب ڈالر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حساب ہفتہ، 27 دسمبر 2025 کو لگایا گیا۔
اس حساب کتاب کے لیے شرحِ مبادلہ 281.1 روپے فی امریکی ڈالر استعمال کی گئی تھی۔


Comments
Comments are closed.