یورپی یونین قیادت کا ٹرمپ سے مذاکرات سے قبل یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
- اتوار کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل یورپی یونین رہنماؤں نے صدر زیلنسکی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا
یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے ہفتے کو اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کی متوقع ملاقات سے قبل بھی یوکرین کے لیے یورپی یونین کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیرلین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اتوار کو فلوریڈا میں ہونے والی زیلنسکی اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل صدر زیلنسکی اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں شرکت کی۔ اسی روز صدر زیلنسکی نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے ہیلی فیکس میں ملاقات بھی کی۔
ارسولا فان ڈیرلین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہم ان تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو ہمارے مشترکہ ہدف یعنی یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کی جانب لے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا امن یوکرین کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا، جو پورے یورپی براعظم کی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2026 میں بھی یورپی کمیشن کریملن پر دباؤ برقرار رکھے گا، یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا اور یورپی یونین کی رکنیت کے سفر میں یوکرین کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی یوکرین کی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ ہو یا امن یا تعمیر نو، یوکرین کے لیے یورپی یونین کی حمایت متزلزل نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے یورپی یونین تیار ہے۔
کوسٹا کے مطابق روس کے خلاف پابندیوں میں توسیع اور ممکنہ اضافی اقدامات سمیت یورپی یونین کے فیصلوں نے یوکرین کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین میں ایک مضبوط اور خوشحال یوکرین پورے خطے کے لیے بنیادی سلامتی کی ضمانت ہے اور امریکا کے شراکت داروں کے ساتھ ملکر یوکرین میں پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔


Comments
Comments are closed.