کیپٹل مارکیٹ نے سرکلر ڈیٹ منصوبے کے تحت انرجی سکوک پر ٹیکس استثنیٰ دے دیا
- سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے تحت پاکستان انرجی سکوک کی خرید و فروخت پر قابلِ اطلاق تمام ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے
سی پی پی اے-جی کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کیپیٹل مارکیٹ انفراسٹرکچر اداروں (سی ایم آئی آئیز) — پاکستان اسٹاک ایکسچینج، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) اور سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) — کے بورڈز نے حکومت کے منظور شدہ 1.225 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے تحت پاکستان انرجی سکوک کی خرید و فروخت پر قابلِ اطلاق تمام ٹیکسوں سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ یہ منظوری اس پس منظر میں دی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے 659.646 ارب روپے کی سرکاری گارنٹی کے اجرا کی سمری منظور کی تھی، جو 1.225 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیبٹ فنانسنگ پلان کا حصہ ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرخ ایچ سبزواری کے مطابق سی ایم آئی آئیزکے انتظامی سربراہان نے اس قومی نوعیت کے اقدام کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج حکومت کے 2031 تک سرکلر ڈیبٹ کے مکمل حل کے منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ سرکلر ڈیبٹ کے حل میں سی ایم آئی آئیز کا کردار بنیادی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹاک ایکسچینج، این سی سی پی ایل اور سی ڈی سی کے بورڈز نے اپنے اپنے سی ای اوز کی سفارشات پر لین دین سے متعلق تمام فیسوں اور مارجن تقاضوں میں چھوٹ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں سکوک ہولڈرز اور سی پی پی اے-جی کے لیے مکمل مارجن چھوٹ اور اسٹاک ایکسچینج کے نیگوشی ایٹڈ ڈیل مارکیٹ (این ڈی ایم) کے ذریعے خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے تمام قابلِ اطلاق فیسوں کی معافی شامل ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کے مطابق، اس اقدام کا مقصد معیشت کے استحکام اور قومی اصلاحاتی اہداف کی تکمیل میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
قبل ازیں سی پی پی اے-جی کے سی ای او ریحان اختر نے اسٹاک ایکسچینج کو خط میں آگاہ کیا تھا کہ حکومت نے 2031 تک پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیبٹ کے حل کا جامع منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 18 بینکوں سے شریعت کے مطابق 1,225 ارب روپے کی فنانسنگ حاصل کی جا رہی ہے، جس کا نفع 3 ماہ کے کائیبور سے 0.9 فیصد کم ہوگا اور ادائیگی 24 اقساط میں کی جائے گی۔ اس فنانسنگ میں 660 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے واجبات کی ادائیگی اور 565 ارب روپے آئی پی پیز کے واجبات کی کلیئرنس شامل ہے۔ مزید یہ کہ اس فنانسنگ کی واپسی نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31(8) کے تحت ڈیٹ سروس سرچارج کے ذریعے کی جائے گی۔
فنانسنگ کے لیے دو ڈھانچے اختیار کیے گئے ہیں: 825 ارب روپے تک کا اجارہ ایس ایل بی ماڈل، جو ڈسکوز کے اثاثوں کے بدلے ہوگا، اور 400 ارب روپے تک کی فوری فنانسنگ۔ معجل انتظام کے تحت سی پی پی اے-جی کو پاکستان انرجی سکوک (پی ای ایس ون اینڈ ٹو) کی خریداری کرنا ہوگی، جس کے بعد یہ سکوک سی پی پی اے-جی کو منتقل ہوتے ہی ریڈیم سمجھے جائیں گے اور خریداری کی رقم 24 سہ ماہی اقساط میں ادا کی جائے گی۔
سی پی پی اے-جی کے مطابق تقریباً 99 فیصد سکوک ہولڈرز نے پی ای ایس ون اینڈ ٹو کی ریڈمپشن پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اسٹاک ایکسچینج میں این ڈی ایم کے ذریعے ٹی پلس ون بنیاد پر سیٹلمنٹ کا انتظام مکمل ہے۔ تاہم اسٹاک ایکسچینج کے مارجن تقاضے اور سی ایم آئی آئیز کی مجموعی ٹرانزیکشن لاگت 400 ارب روپے مالیت کے سکوک پر غیر معمولی مالی بوجھ ڈالتی، جس کے باعث ان فیسوں اور تقاضوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.