بنو وولن ملز میں 1 میگاواٹ سولر پلانٹ فعال، مینوفیکچرنگ کو صاف توانائی فراہم
- یہ پیشرفت ہمارے وسیع تر پائیداری اور توانائی کی لاگت کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، کمپنی
بنو وولن ملز لمیٹڈ (بی ایم ڈبلیو) نے اپنی ملز میں ایک میگاواٹ کی آن گرڈ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب مکمل کر کے اسے مکمل طور پر فعال کردیا جو اب مینوفیکچرنگ آپریشنز کو صاف توانائی فراہم کر رہا ہے۔
لسٹڈ کمپنی جو اون کے دھاگے، کپڑے اور کمبل کی تیاری اور فروخت میں سرگرم ہے نے منگل کو اپنے اسٹیک ہولڈرز کو ایک نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا۔
نوٹس کے مطابق کمپنی نے ڈیرہ اسماعیل خان روڈ، بنو میں واقع اپنے ملز سائٹ پر ون میگاواٹ کی آن گرڈ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب مکمل کر لی ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ سولر پلانٹ کامیابی کے ساتھ کمیشن کر دیا گیا ہے۔ پلانٹ اب فعال ہے اور فوری طور پر مینوفیکچرنگ آپریشنز کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پیشرفت ہمارے وسیع تر پائیداری اور توانائی کی لاگت کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔
پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً سولر توانائی کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے جو رہائشی اور کمرشل دونوں شعبوں میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ کے مطابق پاکستان اپنے توانائی شعبے میں بے مثال سولرائزیشن کا تجربہ کر رہا ہے اور ملک بھر میں 33 گیگاواٹ صلاحیت کے سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز نصب کیے جاچکے ہیں۔
یہ بڑھتا ہوا رجحان فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت مستحکم رہ گئی ہے۔
اس کے باوجودکئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ اس نسبتاً سستی توانائی کے ذرائع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.