ماسکو اور بیجنگ میں روسی تیل کی برآمدات بڑھانے پر مشاورت
- یوکرین میں فروری 2022 میں روسی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد چین اور بھارت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار بن چکے ہیں
ماسکو اور بیجنگ کے درمیان روسی تیل کی چین کو برآمدات میں اضافے کے امکانات پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے منگل کے روز اس بات کا انکشاف کیا کہ دونوں ممالک تیل کی فراہمی بڑھانے کے مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
یوکرین میں فروری 2022 میں روسی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد چین اور بھارت روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار بن چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں چین روزانہ سمندری راستے سے تقریباً 1.4 ملین بیرل روسی تیل درآمد کرتا ہے جبکہ پائپ لائن کے ذریعے یہ حجم تقریباً 900,000 بیرل یومیہ ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ مقدار مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے اگر دونوں ممالک نئے معاہدوں پر متفق ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکا نے روس کی دو بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر نئی پابندیاں عائد کیں جس کا مقصد روسی توانائی کی برآمدات کو محدود کرنا تھا۔ تاہم روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ان پابندیوں کو غیر دوستانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا روسی معیشت پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا اور روس عالمی توانائی مارکیٹ میں اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔
روسی تیل کی چین اور بھارت کو فراہمی کے حوالے سے متضاد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم مجموعی طور پر روس کی خام تیل کی برآمدات اب تک نسبتاً مستحکم رہی ہیں۔ بیجنگ میں منعقدہ چینی-روسی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے نوواک نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے کہ قازقستان کے ذریعے چین کو تیل کی فراہمی کے موجودہ معاہدوں کو 2033 تک مزید 10 سال کے لیے توسیع دی جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس اور چین توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ روس اس وقت یورپی منڈیوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایشیائی ممالک کی جانب تیزی سے رخ کر رہا ہے، جہاں چین ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔


Comments
Comments are closed.