BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.86%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.43%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.31 Increased By ▲ 2.34 (1.21%)
FABL 89.93 Increased By ▲ 0.14 (0.16%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.80 Increased By ▲ 0.83 (4.38%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.23 Increased By ▲ 0.85 (0.4%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.70 Decreased By ▼ -0.19 (-0.68%)
MLCF 87.15 Increased By ▲ 0.64 (0.74%)
OGDC 323.00 Increased By ▲ 3.04 (0.95%)
PAEL 39.78 Increased By ▲ 0.36 (0.91%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 268.15 Increased By ▲ 2.09 (0.79%)
PPL 229.44 Increased By ▲ 1.26 (0.55%)
PRL 34.87 Increased By ▲ 0.19 (0.55%)
SNGP 99.32 Increased By ▲ 0.14 (0.14%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.37 (1.39%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.60 Increased By ▲ 0.38 (4.62%)
TRG 69.98 Increased By ▲ 0.27 (0.39%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

پہلی فائیو جی نیلامی،اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی آج اہم فیصلے کریگی

  • امریکی بین الاقوامی مشاورتی کمپنی نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (نیرا) کے نمائندے اسلام آباد پہنچ گئے
شائع November 14, 2025 اپ ڈیٹ November 14, 2025 09:15am

اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی (ایس اے سی)، جس کی سربراہی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں، جمعہ 14 نومبر کو اجلاس منعقد کرے گی تاکہ پاکستان میں پہلی بار ہونے والی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی سے متعلق فیصلوں کو حتمی شکل دی جاسکے۔ تاہم اس عمل پر اب بھی غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں، کیونکہ 2600 بینڈ میں موجود 154 میگا ہرٹز کا وہ حصہ، جو ملک میں فائیو جی کے آغاز کیلئے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے، عدالتی تنازع کا شکار ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی بین الاقوامی مشاورتی کمپنی نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (نیرا) کے نمائندے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہی کنسلٹنسی فرم ہے جسے حکومت نے اسپیکٹرم نیلامی کیلئے خدمات فراہم کرنے کے لیے ہائر کیا تھا۔ فرم اپنی جامع رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکٹرم نیلامی کیلئے دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن دی تھی، تاہم پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے مجوزہ انضمام میں تاخیر اور 154 میگا ہرٹز کے اہم بینڈ پر جاری مقدمے بازی کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔ حکومت مجموعی طور پر 562 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کیلئے پیش کرنا چاہتی ہے، لیکن اس میں سے 140 میگا ہرٹز اب بھی قانونی چارہ جوئی میں پھنسا ہوا ہے۔

ایک افسر کے مطابق حکومت کے پاس آئی ٹی یو کی جانب سے فائیو جی کیلئے مختص تمام بینڈز موجود ہیں، جن میں 700، 2100، 2300، 2600 اور 3300 میگا ہرٹز سمیت اس سے اوپر کے بینڈز شامل ہیں، جو فائیو جی کیلئے موزوں ہیں۔ انہی بینڈز کو ٹیکنالوجی نیوٹرل بنیادوں پر پیش کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت 2100، 2300 اور 2600 بینڈز میں فور جی اور فائیو جی دونوں کیلئے استعمال کی اجازت ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق جمعہ کو طلب کیے گئے اہم اجلاس میں اسپیکٹرم نیلامی سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے، جس کے بعد پاکستان میں طویل عرصے سے مؤخر پڑی نئی جنریشن کی موبائل ٹیکنالوجی کی نیلامی کا واضح روڈ میپ طے ہوگا۔ اب یہ عمل ممکنہ طور پر فروری یا مارچ 2026 میں متوقع ہے، کیونکہ ماضی میں قانونی تنازعات اور ریگولیٹری رکاوٹیں اس میں بار بار تاخیر کا باعث بنتی رہی ہیں۔

بین الاقوامی کنسلٹنٹ کمیٹی کو مارکیٹ کی تیاری، اسپیکٹرم کی قدر، قیمتوں کی حکمتِ عملی، بینڈ الاٹمنٹ، رول آؤٹ ذمہ داریوں اور پالیسی تجاویز پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا، جو پاکستان کے فائیو جی فریم ورک کی بنیاد سمجھی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شیزا فاطمہ خواجہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ ملک میں فائیو جی کا اجرا سنگین خدشات سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی لاگت، خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس، کم اوسط آمدنی (اے آر پی یو)، ڈالر سے منسلک لائسنس فیس، اور مقدمات نے ٹیلی کام سیکٹر کو پہلے ہی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ 2600 بینڈ کے 154 میگا ہرٹز پر جاری قانونی تنازع اسپیکٹرم نیلامی کو مزید تاخیر یا حتیٰ کہ تعطل میں بھی ڈال سکتا ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں اور جی ایس ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اسپیکٹرم کے اجرا میں مزید تاخیر آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کو 1.8 سے 4.3 ارب ڈالر تک کے معاشی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ آپریٹرز نے گزشتہ نیلامی سے کم قیمتیں، روپے میں فیس کی ادائیگی، 15 سال تک سود فری اقساط، اور فائیو جی آلات و اسمارٹ فونز کی ڈیوٹی فری درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف پروگرام ایسی مراعات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔

جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان میں اسپیکٹرم کی قیمت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جو آپریٹرز کی آمدنی کا تقریباً 20 فیصد کھا جاتی ہے۔ اس لیے اس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کم مدتی آمدنی بڑھانے کے بجائے سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول تشکیل دے۔

اس وقت پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فعال ہے، جو خطے کے ممالک کے مقابلے میں نصف سے بھی کم اور عالمی معیار سے بہت دور ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی کمی کروڑوں صارفین کے لیے نیٹ ورک کے بوجھ، کال کے منقطع ہونے اور سست انٹرنیٹ اسپیڈ کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.