BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
دنیا

حماس کا غزہ جنگ بندی معاہدے پر سنجیدگی کا اظہار، مگر شرائط برقرار

  • بات چیت اب تک سب سے زیادہ امید افزا نظر آتی ہے، جس کا مقصد اس نام نہاد جنگ کا خاتمہ ہے جو دسیوں ہزار فلسطینیوں کی جان لے چکی ہے اور غزہ کو تباہی سے دوچار کر چکی ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

حماس نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کی بنیاد پر معاہدہ کرنا چاہتی ہے، تاہم اس کی بعض شرائط اب بھی برقرار ہیں۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ مصر میں اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات مشکل اور طویل ہو سکتے ہیں۔

حماس کے سینئر رہنما فوزی برھوم نے یہ موقف اس روز بیان کیا جب فلسطینی تنظیم کے اسرائیل پر حملے کی دوسری برسی منائی گئی اور ایک روز قبل شرم الشیخ میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

یہ بات چیت اب تک سب سے زیادہ امید افزاء دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ ہے جو دسیوں ہزار فلسطینیوں کی جان لے چکی ہے اور غزہ کو تباہ کر چکی ہے۔

تاہم تمام فریقوں کے حکام نے کسی فوری معاہدے کے امکان کے حوالے سے محتاط رہنے پر زور دیا ہے، جب کہ اسرائیلی اس دن کو یاد کر رہے ہیں جو ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے لیے سب سے خونی دن تھا، اور غزہ کے عوام دو سالہ اسرائیلی جارحیت سے نجات کی امید کر رہے ہیں۔

حماس کی شرائط

فوزی برھوم نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ ”مصر میں جاری مذاکرات میں شریک حماس کے وفد کی کوشش ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں، ایسا معاہدہ جو غزہ کے عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔“

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں جنگ کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کا غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا یقینی بنایا جانا چاہیے، ایسی شرائط جنہیں اسرائیل نے کبھی قبول نہیں کیا۔ دوسری جانب، اسرائیل چاہتا ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے، جسے حماس مسترد کرتی ہے۔

برھوم کے مطابق حماس ایک مستقل اور جامع جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، اور تعمیرِ نو کے ایک ہمہ گیر عمل کا فوری آغاز چاہتی ہے، جو ایک فلسطینی ”قومی ٹیکنوکریٹک ادارے“ کی نگرانی میں ہو۔

مذاکرات میں درپیش رکاوٹوں کو اجاگر کرتے ہوئے، حماس سمیت مختلف فلسطینی دھڑوں کے ایک اتحاد نے ایک مشترکہ بیان میں تمام ذرائع سے ”مزاحمت کی پالیسی“ جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ”کسی کو بھی فلسطینی عوام کے ہتھیاروں سے دستبرداری کا اختیار حاصل نہیں۔“

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شرم الشیخ میں ہونے والی مذاکرات کی پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر مذاکرات کا محور جنگ بندی اور یرغمالیوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے طریقہ کار پر رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ثالثی کرنے والے ممالک میں شامل قطر نے کہا ہے کہ بہت سے نکات پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جس سے اس کی عالمی سطح پر تنہائی میں اضافہ ہوا ہے اور بیرونِ ملک فلسطین کے حق میں مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، جن کے منگل کو بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

دونوں جانب عام شہریوں کو کسی پیش رفت کی امید

2023 کے حملے کی برسی کے موقع پر بعض اسرائیلیوں نے ان مقامات کا دورہ کیا جو اُس دن سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

اورِت بارون نے جنوبی اسرائیل میں واقع نووا میوزک فیسٹیول کے مقام پر اپنی بیٹی یووال اور اس کے منگیتر موشی شووا کی تصویر کے ساتھ کھڑے ہو کر انہیں یاد کیا۔ یہ دونوں اُن 364 افراد میں شامل تھے جنہیں اس روز گولی مار دی گئی تھی۔

اورِت بارون نے کہا کہ ”ان کی شادی 14 فروری، ویلنٹائنز ڈے کے روز ہونا طے تھی۔ دونوں خاندانوں نے فیصلہ کیا کہ چونکہ وہ دونوں ایک ساتھ (مردہ) پائے گئے اور ہمیں بھی ایک ساتھ دیے گئے، اس لیے ان کی تدفین بھی ایک ساتھ ہوگی۔“

”انہیں ایک ساتھ دفن کیا گیا کیونکہ وہ کبھی الگ نہیں ہوئے۔“

اسرائیلیوں کو امید ہے کہ شرم الشیخ میں جاری بات چیت جلد غزہ میں اب بھی موجود 48 یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گی، جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا گمان ہے۔

43 سالہ ہلدا ویستھال نے کہا کہ ”یہ یرغمالی ایک کھلا زخم ہیں، یقین نہیں آتا کہ دو سال گزر گئے اور وہ ابھی تک گھر واپس نہیں آ سکے۔“

غزہ میں 49 سالہ فلسطینی محمد دیب نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کی امید ظاہر کی، جس نے انسانی بحران کو جنم دیا، لاکھوں فلسطینیوں کو بار بار بے گھر کیا اور غزہ کے صحت حکام کے مطابق 67,000 سے زائد فلسطینیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم دو سال سے خوف، دہشت، دربدر اور تباہی کی حالت میں جی رہے ہیں۔“

دو سال بعد بھی جنگ بندی نہیں

تازہ ترین جھڑپوں میں منگل کی علی الصبح جنوبی غزہ کے خان یونس اور شمالی غزہ سٹی کے رہائشیوں نے اسرائیلی ٹینکوں، طیاروں اور بحری جہازوں کے نئے حملوں کی اطلاع دی۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں موجود جنگجوؤں نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جس سے اسرائیلی کیبُٹس نیتیو ہاسارا میں ہوائی حملے کے سائرن بجنے لگے اور اسرائیلی افواج نے محصور علاقے کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔

اسرائیل اور حماس دونوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کے مجموعی نکات سے اتفاق کیا ہے، جس کے تحت جنگ بندی ہو گی، یرغمالی رہا ہوں گے اور غزہ میں امداد پہنچائی جائے گی۔ اس منصوبے کو عرب اور مغربی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تاہم جنگ بندی کے منصوبے سے منسلک ایک اہلکار اور ایک فلسطینی ذریعے کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی واپسی کے لیے ٹرمپ کی 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن اُن یرغمالیوں کے لیے قابلِ عمل نہیں ہو سکتی جو ہلاک ہو چکے ہیں، کیونکہ ان کی باقیات کو تلاش اور بازیاب کرنا ہو گا۔

حتیٰ کہ اگر معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے، تو یہ سوال باقی رہے گا کہ غزہ پر کون حکومت کرے گا اور تعمیر نو کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس کے کسی بھی کردار کو مسترد کر دیا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اربوں ڈالر کی خطیر رقم کون فراہم کرے گا تاکہ غزہ کی پٹی، جو تقریباً مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے، دوبارہ تعمیر کی جا سکے۔

Comments

Comments are closed.