او جی ڈی سی ایل نے بلوچستان میں جھل مگسی پراجیکٹ کامیابی سے مکمل کرلیا
- ایس ایس جی سی ایل کو گیس کی فراہمی شروع کردی گئی
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، جو پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) کمپنی ہے، نے بلوچستان میں جھل مگسی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل اور کمیشننگ کا اعلان کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ اب سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے نیٹ ورک کو گیس فراہم کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت کمپنی نے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس میں کہا گیا کہ او جی ڈی سی ایل کو یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ جھل مگسی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ، جو بلوچستان کے دور افتادہ ضلع جھل مگسی میں واقع ہے، کامیابی سے مکمل اور کمیشن ہو چکا ہے۔
کمپنی کے مطابق، پراجیکٹ اس وقت تقریباً 14 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) پائپ لائن معیار کی گیس کے ساتھ 45 بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کنڈینسیٹ فراہم کر رہا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ گیس کو ایس ایس جی سی ایل نیٹ ورک میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے لیے ایس ایس جی سی ایل نے جھل مگسی فیلڈ سےایس ایس جی سی ایل ٹائی اِن پوائنٹ تک 98 کلومیٹر طویل گیس ٹرانسپورٹیشن لائن تعمیر کی۔
او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ ترقیاتی سرگرمیاں فروری 2024 میں شروع ہوئیں، جب حکومت نے منصوبے کے لیے مراعات کی منظوری دی، جس میں 1997 پٹرولیم پالیسی سے مارجل فیلڈ گیس پرائسنگ پالیسی میں تبدیلی بھی شامل تھی۔
نوٹس کے مطابق یہ منصوبہ قومی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا اور مختلف تکنیکی و علاقائی چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا۔
کام کے دائرہ کار میں امائن یونٹ، ڈیہائیڈریشن یونٹ، ہاٹ آئل پیکیج، پاور جنریشن سہولیات اور گیئرنگ سسٹمز کی تنصیب شامل تھی۔
کمپنی نے بتایا کہ جھل مگسی فیلڈ میں دو کنویں ہیں اور یہ ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل بطور آپریٹر 56 فیصد ورکنگ انٹرسٹ رکھتی ہے، جبکہ پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (پی او ایل) کے پاس 24 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے پاس 20 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ جھل مگسی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل او جی ڈی سی ایل کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ملکی ہائیڈروکاربن وسائل کی پائیدار ترقی کے ذریعے قومی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔
او جی ڈی سی ایل کو 23 اکتوبر 1997 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 (اب کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت شامل کیا گیا تھا۔ یہ کمپنی تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور ترقی کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کی پیداوار اور فروخت اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کے لیے قائم کی گئی تھی، جو اس سے قبل 1961 میں قائم ہونے والی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے تحت چلائی جاتی تھیں۔


Comments
Comments are closed.