وزارتِ خزانہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے پروگرام ”بہتر وسائل کی وصولی اور استعمال میں اصلاحات“ (Improved Resource Mobilization & Utilisation Reform) کے تحت پالیسی پر مبنی ضمانت سے جزوی طور پر محفوظ 1 ارب ڈالر کی مشترکہ مدت فنانس سہولت پر دستخط کر دیے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق، دبئی اسلامک بینک نے اس معاہدے میں واحد اسلامی عالمی رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کیا، جبکہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کو مینڈیٹ لیڈ ارینجر اور بُک رنر مقرر کیا گیا۔
دیگر مالیاتی اداروں میں ابو ظہبی اسلامک بینک بطور مینڈیٹ لیڈ ارینجر، جبکہ شارجہ اسلامک بینک، عجمان بینک اور حبیب بینک لمیٹڈ بطور ارینجرز شامل ہیں۔ یہ سہولت حکومتِ پاکستان کے لیے ایک تاریخی اور نمایاں معاہدہ ہے جو خطے کے بڑے مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے۔
یہ پانچ سالہ، کثیر قسطوں پر مشتمل مالیاتی سہولت ہے جس میں اسلامی اور روایتی، دونوں اقسام کی مالیات شامل ہیں۔ اسلامی فنانسنگ کی ساخت اکائونٹنگ اینڈ آڈٹنگ آرگنائزیشن فار اسلامک فنانشل انسٹیٹیوٹ کے معیارات کے مطابق مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، اور یہ کل فنانسنگ کا 89 فیصد حصہ ہے۔ باقی 11 فیصد رقم روایتی مالیاتی ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔
یہ لین دین اے ڈی بی کی پالیسی پر مبنی ضمانت سے سپورٹ یافتہ پہلا معاہدہ ہے جو اے ڈی بی کے کسی رکن ملک (پاکستان) کی اصلاحاتی اقدامات سے مشروط ہے۔
اے ڈی بی کا یہ پروگرام پاکستان کو طویل مدتی مالیاتی استحکام اور مضبوطی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کی بدولت پاکستان تقریباً ڈھائی سال بعد بین الاقوامی کمرشل مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے، اور مشرق وسطیٰ کے بینکوں کی جانب سے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے مالیاتی بازار میں ڈھائی سال کے وقفے کے بعد دوبارہ قدم رکھا ہے، جو مارکیٹ کی جانب سے پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں اور مجموعی معاشی اشاریوں پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔
یہ معاہدہ حکومتِ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے بینکوں کے درمیان ایک نئی شراکت داری کا آغاز بھی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حالیہ بیان میں کہا کہ حکومت رواں مالی سال میں دوبارہ کمرشل مارکیٹ میں گئی ہے اور تقریباً 2 ارب ڈالر کی کمرشل فنانسنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 11 سے 12 ارب ڈالر کی سطح سے بڑھا کر 14 ارب ڈالر تک پہنچانے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے اے ڈی بی کی پشت پناہی سے مشرق وسطیٰ کے بینکوں کے ساتھ ایک تاریخی فنانسنگ معاہدہ کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان ڈھائی سال بعد عالمی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اے ڈی بی کی گارنٹی کے ساتھ 1 ارب ڈالر کا سنگِ میل معاہدہ ہے جو پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں پر مارکیٹ کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کثیر اقساط پر مشتمل اسلامی و روایتی مشترکہ فنانسنگ کا ماڈل ہے جو مالیاتی اصلاحات کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.