✕
دنیا

جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز کے قریب بحری فوجی آپریشنز بڑھانے کا فیصلہ

  • مجوزہ منصوبے کے تحت یونٹ کی کارروائیوں کا دائرہ عمان کی بندرگاہ دقم کے قریب سمندری حدود تک بڑھایا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں حمایت فراہم کرنے کے دباؤ کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب اپنے بحری انسدادِ قزاقی یونٹ کی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق حکومت مشرق وسطیٰ میں تعینات اپنے بحری یونٹ چیونگہے کی مدت میں توسیع کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرے گی، جس کی موجودہ تعیناتی دسمبر 2026 کے اختتام پر ختم ہورہی ہے۔

چیونگہے یونٹ 2009 سے خلیج عدن میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے تعینات ہے۔ اس میں 4 ہزار 400 ٹن وزنی تباہ کن جنگی جہاز، ایک بحری ہیلی کاپٹر، تین چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور تقریباً 300 اہلکار شامل ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت یونٹ کی کارروائیوں کا دائرہ عمان کی بندرگاہ دقم کے قریب سمندری حدود تک بڑھایا جائے گا، جو آبنائے ہرمز سے تقریباً 650 کلومیٹر دور ہے۔ جنوبی کوریا ایک پی 8 اے بحری نگرانی کا طیارہ بھی تعینات کرے گا اور یونٹ میں 75 اہلکاروں کا اضافہ کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران جنگ میں ناکافی حمایت پر جنوبی کوریا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جنوبی کوریا اپنی تیل کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے اور 2025 میں اس کی تقریباً 70 فیصد تیل کی درآمدات اسی خطے سے ہوئیں، جن میں زیادہ تر ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوئی۔ تاہم صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایسے فوجی اقدامات نہیں کرے گا جو اسے جنگ میں دھکیل دیں۔