ایران پر امریکی حملے کی اطلاع، خام تیل مہنگا ہوگیا
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 48 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے سے 105.25 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
عالمی منڈی میں منگل کو ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ امریکی حملے میں ایران کے جزیرے قشم کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری تنازع مزید شدت اختیار کرنے اور تیل کی فراہمی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھ گئے۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 48 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے سے 105.25 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 47 سینٹ یا 0.5 فیصد بڑھ کر 96.93 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اس سے قبل پیر کو برینٹ خام تیل کے سودوں کی قیمت 8.66 ڈالر یا 7.63 فیصد کمی کے بعد 104.77 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے ایران کے جزیرے قشم پر حملہ کیا۔ بعض حکام کے مطابق یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں، جن کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کی صلاحیت استعمال کرنے سے روکنا تھا۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق اس رپورٹ نے تیل کی قیمتوں میں خطرات کے پیش نظر اضافی پریمیم شامل کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مارکیٹیں سفارتی پیش رفت کی امید پر قیمتوں کا تعین کررہی تھیں، ایسے میں فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات نے صورتحال کا رخ تبدیل کردیا۔
دوسری جانب تہران نے پیر کو کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں تجاویز میں تبدیلی تو آئی تاہم کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کے امکان کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ہوسکتا ہے۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس راستے سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو امن مذاکرات کے لیے بعض اختیارات دے دیے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے روس اور یوکرین کے وفود کو 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جن میں جنگ کے خاتمے، جنگ کے بعد سیکیورٹی معاہدوں اور کشیدگی میں کمی پر بات ہوگی۔