نئی جنگ طویل ہو سکتی ہے، ٹرمپ کی حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کا انتباہ
- ایران نے مذاکرات کے لیے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ واپس لینے اور پابندیاں ختم کرنے سمیت واضح شرائط پیش کر دیں، امریکی سفارتی لہجے میں مبینہ مثبت تبدیلی کے باوجود تہران کا مؤقف برقرار
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی نئی جنگ کا دورانیہ گزشتہ جنگ سے زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید اہداف کو ’نمٹانے‘ کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ بمباری شروع کرنے کی مسلسل دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دونوں ممالک میں اہم انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا كہ مستقبل میں ممکنہ جنگ گزشتہ تنازع سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے اور امریکی صدر اس کے خاتمے کے وقت یا شرائط کا تعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔
جنگ کے شدید ترین مرحلے کا آغاز 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے پورے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اکرمینیا کا یہ بیان ٹرمپ کے اس اشارے کے بعد سامنے آیا کہ امریکا ایران میں باقی ماندہ اہداف کو تیزی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرے خیال میں ہمیں ابھی ایک یا دو مقامات سے نمٹنا باقی ہے، لیکن ہم یہ کام 10 منٹ میں کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا آپ شاید پِک ایکس ماؤنٹین کو دیکھ سکتے ہیں، ہمیں اس سے بھی نمٹنا ہوگا۔ ہم یہ سب کچھ بہت تیزی سے کر سکتے ہیں۔ ان کا اشارہ ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری تنصیب کی جانب تھا۔
کوئی جغرافیائی حدود نہیں
ایران کے اعلیٰ فوجی اور سیاسی عہدیدار کسی بھی نئے حملے کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے اتوار کو ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ایک روز قبل جاری تحریری پیغام میں دی گئی وارننگ کو دہرایا۔
حسین محبی نے کہا امریکا کے ساتھ کسی بھی تنازع میں جغرافیائی حدود کی کوئی پابندی نہیں ہوگی، دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک وسیع میدانِ جنگ متعین کیا جا چکا ہے۔‘
یہ انتباہات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک خط موصول ہوا ہے۔
محسن رضائی نے امریکی مؤقف کے لہجے میں مثبت تبدیلی کا ذکر کیا، تاہم کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس خط کا جواب نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران پہلے ہی واشنگٹن کو واضح کر چکا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، نہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوں گے۔
ایران کی شرائط میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، ایرانی بندرگاہوں پر عائد کئی ماہ سے جاری امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، طویل عرصے سے عائد پابندیوں کا خاتمہ اور تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ تہران نے متعدد مرتبہ ان جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکا نے جواباً ایرانی بندرگاہوں پر بحری جوابی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔
بدترین صورتحال کے لیے تیار
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات امید کرتا ہے کہ فریقین کے درمیان حالیہ کشیدگی سفارتی پیش رفت کا باعث بنے گی، تاہم وہ بدترین صورتحال کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے منامہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم امید کر رہے ہیں کہ سفارتی سطح پر کوئی پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا خطے کے مفاد میں نہیں کہ اسے ایک اور جنگی مرحلے سے گزرنا پڑے، لیکن میرے خیال میں ہم ماضی کی طرح بدترین صورتحال کے لیے بھی تیار ہیں۔ تہران میں بعض شہریوں نے دوبارہ جنگ چھڑنے کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے باعث بے بسی کے احساس کا اظہار کیا۔
27 سالہ محکمہ صحت کی انسپکٹر محادسے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سامنے آنے والی خبریں واقعی تشویش ناک ہیں۔ تاہم ایک عام شہری کی حیثیت سے میں ان خبروں میں جتنا بھی الجھ جاؤں، حقیقت میں کچھ نہیں کر سکتی۔
دوسری جانب 48 سالہ دکاندار ابراہیم سمیت بعض دیگر شہریوں نے کہا کہ انہیں کسی تشویش کی وجہ نظر نہیں آتی۔
انہوں نے تہران کے وسطی علاقے میں کہا ہم کسی اور جنگ سے خوفزدہ نہیں ہیں؛ ہم گزشتہ 48 برس سے جنگ کی حالت میں ہیں، ہم ہمیشہ جنگ میں ہی رہتے ہیں۔