✕
دنیا

بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کرانے کے لیے عالمی برادری کی دلچسپی بڑھ رہی، امریکی وزیر خارجہ

  • جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں یوکرین جنگ کے معاملے پر اختلافات نمایاں رہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کرانے کے لیے عالمی برادری کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، جس کا مقصد روس اور یوکرین کی جانب سے توانائی اور اناج کی ترسیل بلا رکاوٹ یقینی بنانا ہے۔ امریکا ترکیہ اور بھارت کی جانب سے اناج کی ترسیل بحال کرنے کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم جنگ کے مستقل اور مذاکراتی حل کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں۔

جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں یوکرین جنگ کے معاملے پر اختلافات نمایاں رہے۔ یورپی اور کینیڈین رہنماؤں کے اعتراضات کے باوجود روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت پر امریکا نے دفاع کیا کہ روس سے بات چیت کے بغیر جنگ کا سفارتی حل ممکن نہیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ انہوں نے لاوروف کے سامنے یوکرین پر روسی حملے، یوکرینی بچوں کی مبینہ جبری منتقلی اور بحیرہ اسود میں یوکرینی جہازوں کو نشانہ بنانے کے معاملات اٹھائے۔ ان کے مطابق بھارت اور مصر سمیت کئی ممالک اپنے بحری جہازوں اور عملے کی سلامتی کے خواہاں ہیں۔

انیتا آنند نے کہا کہ یوکرین کے توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے اور خوراک کی ترسیل محفوظ بنانے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے، خصوصاً آنے والے موسم سرما سے قبل۔ تاہم روس نے تاحال اس حوالے سے پیش رفت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی آئندہ ماہ اے پی ای سی اجلاس یا دسمبر میں میامی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کا امکان زیر بحث آیا، تاہم پیوٹن کی شرکت کی کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔