جنوری تا ستمبر 2026 کے دوران کارپوریٹ قرضوں کا اجرا 291 ارب روپے تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ
- حکومت کی کیپیٹل مارکیٹ میں اصلاحات، سرمایہ کاروں کی تعداد اور طویل مدتی مالی وسائل تک رسائی بڑھانے پر توجہ
پاکستان میں جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران کارپوریٹ قرضوں کے اجرا کا حجم 291 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت قرضوں کی مارکیٹ کو وسعت دینے، اس میں نقد رقوم کی دستیابی بہتر بنانے اور طویل مدتی مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کیپیٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی) کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیپیٹل مارکیٹ اصلاحات پر پیش رفت اور قرضوں کے اجرا کرنے والے اداروں اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
سال 2025 میں کارپوریٹ قرضوں کا اجرا 326 ارب روپے رہا، جو 2024 کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے، جبکہ فروری 2025 سے ستمبر 2026 کے دوران 45.4 ارب روپے مالیت کے کارپوریٹ قرضوں کے 12 نئے اجرا اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار صکوک اور قرضوں کی دیگر مالیاتی دستاویزات میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
کونسل نے نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) کے مجوزہ شریعہ سے ہم آہنگ صکوک پروگرام کا بھی جائزہ لیا، جس کا مجموعی حجم 100 ارب روپے تک ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت ابتدائی اجرا 20 ارب روپے تک کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جس کی مدت 10 سال تک ہوگی۔ تاہم، اس کا انحصار ضروری منظوریوں اور مارکیٹ کی صورت حال پر ہوگا۔
یہ پروگرام مرحلہ وار جاری کیا جائے گا اور اس کے تحت عوامی پیشکشوں کے ذریعے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں صکوک لسٹ کیے جائیں گے۔ محمد اورنگزیب نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لسٹ شدہ کارپوریٹ قرضوں کے مالیاتی ذرائع کی استعداد کا عملی مظاہرہ ہوگا اور دیگر اداروں کو بھی اسی نوعیت کے اجرا کی ترغیب ملے گی۔
کونسل نے کارپوریٹ قرضوں کے اجرا میں سہولت کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور پی ایس ایکس میں خصوصی کارپوریٹ ڈیبٹ مارکیٹ ڈیسک کا قیام شامل ہے۔ دونوں اداروں کے ذریعے لسٹنگ کا یک دریچہ نظام پہلے ہی فعال ہے، جبکہ اس عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) کو بھی اس نظام سے منسلک کرنے پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں ٹیکس اور مالیاتی امور، قرضوں کے اجرا، مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے سے متعلق اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس سے متعلق بے ضابطگیوں کا خاتمہ، لسٹنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانا، لین دین کے اخراجات کم کرنا، مارکیٹ میں نقد رقوم کی دستیابی بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط کرنا ہے۔
ثانوی مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے وزارت خزانہ نے بتایا کہ یومیہ اوسط کاروباری مالیت مالی سال 2026 میں 3.93 ارب روپے تھی، جو 15 اکتوبر 2026 تک مالی سال 2027 میں بڑھ کر 10 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے)، سی ڈی سی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کے باہمی تعاون سے 13 بینکوں کو اس نظام میں شامل کیا گیا ہے، جو ثانوی مارکیٹ میں حصص و مالیاتی دستاویزات کی خرید و فروخت میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
کونسل نے بینکوں کو پی ایس ایکس کے ذریعے حکومتی صکوک کی خرید و فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان میں ایسے انتظامات شامل ہیں جن کے تحت بینک اور دیگر اہل ادارے بروکر اکاؤنٹس کھولے بغیر حکومتی سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔
ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایس ای سی پی نے کونسل کو 17 پنشن فنڈ منیجرز اور 44 انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔ ان مذاکرات میں موزوں قرض جاتی مالیاتی دستاویزات کی دستیابی، ثانوی مارکیٹ میں نقد رقوم کی دستیابی، قرض جاری کرنے والے اداروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے مجموعی نظام کو بہتر بنانے کے مواقع کی نشاندہی کی گئی۔
محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) سمیت دیگر کاروباری اداروں کو کیپیٹل مارکیٹ کے ذریعے مالی وسائل کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مزید کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایس ای سی پی کو ہدایت کی کہ وہ پی ایس ایکس اور متعلقہ پلیٹ فارمز کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے قابلِ عمل حل وضع کرے۔ انہوں نے سرمایہ کاری بینکوں، مالیاتی مشیروں، کنسلٹنٹس اور ممکنہ قرض جاری کرنے والے اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔
وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی اور پی ایس ایکس پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی ممکنہ طور پر ایمرجنگ مارکیٹس کا درجہ دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایم ایس سی آئی کے ساتھ رابطے کی کوششیں پھر سے شروع کریں۔ انہوں نے اس ماہ کے اوائل میں بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایم ایس سی آئی کی ٹیم سے اپنی ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے اگلے مرحلے میں ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو قرضوں کے زیادہ اجرا، مارکیٹ میں نقد رقوم کی بہتر دستیابی اور سرمایہ کاروں کی وسیع تر شمولیت میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے روایتی بینک قرضوں کے علاوہ مالی وسائل کے حصول کے متبادل ذرائع بڑھانے، پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ملکی بچتوں کو بروئے کار لانے اور مزید کاروباری اداروں کو طویل مدتی سرمایہ تک رسائی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں ایس ای سی پی کے چیئرمین، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پی ایس ایکس، پی بی اے اور ٹیکس پالیسی آفس کے نمائندوں سمیت وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔