✕
دنیا

اسرائیلی انتخابات میں ڈیڈلاک، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے حکومت سازی کے دعوے

  • کن 11 اور چینل 13 کے جائزوں میں دونوں اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیل کے انتخابات کے ابتدائی جائزوں میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کے سیاسی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ سامنے آیا ہے، جبکہ دونوں فریقوں نے حکومت کی قیادت کا دعویٰ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے دائیں بازو کی حکومت بنانے پر زور دیا، جبکہ آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود اسرائیلی رہنما کو مسترد کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مختلف ٹی وی چینلز کے ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو اور ان کے مخالف اتحادوں کو تقریباً برابر نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کن 11 اور چینل 13 کے جائزوں میں دونوں اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی، جبکہ چینل 12 نے نیتن یاہو کے اتحاد کو 52 کے مقابلے میں 49 نشستوں کی برتری دی۔

120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم کوئی بھی اتحاد اس حد تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حتمی نتائج جمعرات یا جمعے کو متوقع ہیں۔

یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والی جنگوں کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوبارہ مشترکہ کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔

آئزنکوٹ نے نیتن یاہو سے سیاست چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل نہیں رہا۔ اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے کی بلند ترین شرح ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو نئے انتخابات کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات اور 2023 میں حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر بھی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ آئزنکوٹ نے خود کو سکیورٹی معاملات میں تجربہ کار اور داخلی سیاست میں نسبتاً معتدل رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔