سعودی فورسز کا ینبع اور طائف کی جانب داغے گئے 2 حوثی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
- مکہ مکرمہ سمیت چار مغربی علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر انتباہات جاری، چند منٹ بعد واپس لے لیے گئے
یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے مغربی علاقوں ینبع اور طائف کی جانب داغے گئے دو حوثی میزائل فضا میں ہی تباہ کردیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی عرب کے سول ڈیفنس ادارے نے ملک کے چار مغربی علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر انتباہات جاری کیے۔ ان علاقوں میں طائف، ینبع اور مکہ مکرمہ بھی شامل تھے۔ تاہم چند منٹ بعد ہی تمام انتباہات واپس لے لیے گئے۔
سول ڈیفنس ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ قریب ترین محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ ادارے نے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کارروائیوں سے متعلق تصاویر یا معلومات سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع پر شیئر کرنے کے خلاف قانونی انتباہ بھی دہرایا۔
حالیہ ہفتوں میں یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے دوران سعودی عرب کو حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع سعودی عرب میں تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی ناکہ بندی کے باعث یہ بندرگاہ سعودی عرب کے لیے خام تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا اہم متبادل راستہ بن گئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں ریاض کے ائرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
سعودی عرب 2015 سے یمن کے تنازع میں مداخلت کرنے والے فوجی اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔ طویل جنگ نے یمن کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک سے دوچار کردیا۔
2022 میں جنگ بندی کے بعد یمن میں لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران جولائی میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔