✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان مالدیپ کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جام کمال

  • مالدیپ کو غذائی مصنوعات، ادویہ، جراحی کے آلات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی سامان فراہم کیا جاسکتا ہے، وفاقی وزیر تجارت
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت میں تعاون اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھا کر معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

وزیر تجارت نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ فورم میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو، وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام، وفود اور دونوں ممالک کے کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔

مالدیپ کے صدر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا اقتصادی روابط مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کا اہم موقع ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے موزوں حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً غذائی مصنوعات، ادویہ، جراحی کے آلات، ٹیکسٹائل اور تعمیرات سے متعلق اشیا کی فراہمی میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے چاول، گوشت، حلال خوراک، پراسیس شدہ زرعی مصنوعات اور تازہ پھلوں کی برآمدات کے لیے پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ ان پھلوں میں آم، ترشاوہ پھل، چیری، خوبانی، آڑو اور کھجور شامل ہیں۔

جام کمال خان نے پاکستان میں زیتون کے تیل کی ابھرتی ہوئی صنعت کا بھی ذکر کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں پاکستانی زیتون کا تیل عالمی منڈیوں میں ایک اعلیٰ معیار کی مصنوعات کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔

سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات کرتے ہوئے وزیر تجارت نے مالدیپ کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیاراتِ خدمات کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اشتراک بڑھانے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پھیلتی ہوئی سیاحتی صنعت، مالدیپ کے مہمان نوازی کے انتظام، پیشہ ورانہ تربیت اور خدمات کے معیار سے متعلق تجربے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

جام کمال خان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات، نقل و حمل، بندرگاہوں سے منسلک سپلائی چین اور تخلیقی معیشت کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے سمندری اور فضائی رابطوں میں بہتری ضروری ہے۔

پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کاروباری ماحول بہتر بنانے، ٹیرف کا نظام آسان کرنے، صنعتی شعبے کے توانائی اخراجات کم کرنے، برآمدی مالی معاونت بڑھانے اور درآمدات و برآمدات کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے پاکستان سنگل ونڈو کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم تاجروں کو ایک ہی نظام کے ذریعے متعدد سرکاری اداروں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے غذائی تحفظ، تجارتی تنازعات کے حل، بین الاقوامی معیارات کی تعمیل اور خصوصی اقتصادی زونز میں اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا اور پاکستان کی برآمدی مسابقت بہتر بنانا ہے۔

مالدیپ کے کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مصنوعات کی خریداری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور ممکنہ خریداروں کے درمیان براہِ راست روابط انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کاروباری وفود کو سہولت فراہم کرنے اور مالدیپ کی کمپنیوں کو موزوں پاکستانی شراکت داروں سے منسلک کرنے کے لیے تیار ہے۔

جام کمال خان نے اپنے مالدیپی ہم منصب اور کاروباری وفد کو پاکستان میں منعقد ہونے والی آئندہ بین الاقوامی فوڈ نمائش میں شرکت کی خصوصی دعوت بھی دی۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش کے گزشتہ ایڈیشن میں 80 ممالک سے 800 سے زائد خریداروں نے شرکت کی تھی۔