✕
مارکٹس

حوثی حملوں اور سپلائی میں خلل کے خدشات، تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر مستحکم

  • برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 21 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 112.96 ڈالر فی بیرل پر آگئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعے کو ایشیائی تجارت کے ابتدائی اوقات میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم گزشتہ سیشن میں قیمتیں 4 فیصد اضافے کے بعد پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد توانائی کی سپلائی میں مزید خلل کے خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا۔

عالمی معیار برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 21 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 112.96 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 27 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی سے 98.12 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

ہفتہ وار بنیاد پر ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے اضافے کے بعد کمی کے ساتھ کاروباری ہفتہ ختم ہونے کا امکان ہے، جبکہ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کے ساتھ اختتام کی جانب گامزن ہے۔ برینٹ جمعرات کو 4 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جمعرات کو خلیج کے قریب واقع شہر ظہران میں اپنے ہیڈکوارٹرز خالی کرنے کا حکم دیا۔ یہ پیش رفت سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے دوران سامنے آئی۔

دوسری جانب لیبیا میں حمادہ اور طاہرہ کے تیل کے ذخائر سے زاوِیہ بندرگاہ تک جانے والی پائپ لائن کا والو بند ہونے سے دونوں مقامات پر تیل کی پیداوار کم ہوگئی ہے۔

ادھر روس نے بدھ کو کہا کہ وہ آئندہ ماہ یوکرین کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات نومبر کے اوائل میں ہوں گے۔

روس 2025 میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد روسی توانائی پر عائد پابندیوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔