پی ٹی سی کی جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے وزیرِ اعظم سے وزارتوں کو متحرک کرنے کی درخواست
- یورپی یونین کی منڈی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا تقریباً 40 فیصد ہے، تاہم جی ایس پی پلس کی مراعات برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں قابلِ تصدیق بہتری اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت دیں کہ یورپی یونین کی نئی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی پلس) کے تحت پاکستان کا ترجیحی تجارتی درجہ برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
22 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے اپریل میں منظور کیے گئے جی ایس پی کے نئے ضوابط کے تحت پاکستان صرف 31 دسمبر 2028 تک جی ایس پی پلس سے مستفید ہونے والا ملک رہے گا۔
جنوری 2029 سے ان تجارتی مراعات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پاکستان کو مذکورہ تاریخ سے پہلے درخواست جمع کرانا ہوگی، جس میں قانونی طور پر پابند عہد و پیمان اور ایک مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کے لیے لائحہ عمل شامل ہو۔ نئی اسکیم 2036 تک نافذ العمل رہے گی، اس لیے پاکستان کی درخواست کا نتیجہ ہی یہ طے کرے گا کہ باقی مدت کے دوران یورپی یونین کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کس حد تک برقرار رہ سکے گی۔
کونسل کے مطابق مالی سال 2025-26 میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کی سب سے بڑی منڈی رہے، جہاں برآمدات کا حجم 7.103 ارب ڈالر رہا۔ یہ پاکستان کی مجموعی 18.004 ارب ڈالر کی برآمدات کا تقریباً 39.5 فیصد تھا اور امریکا اور برطانیہ کو کی جانے والی مجموعی برآمدات سے بھی زیادہ تھا۔ گزشتہ مالی سال یورپی یونین کو برآمدات میں 2 فیصد کمی ہوئی، تاہم جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران یہ 3 فیصد اضافے کے ساتھ 1.954 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس میں تولیے، مردانہ سوتی پتلونوں اور بیڈ کورز کی برآمدات نے نمایاں کردار ادا کیا۔
پی ٹی سی نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حریف ممالک اس کی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دسمبر میں دستخط متوقع ہیں، جس کے 2027 کے اوائل میں نافذ العمل ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح یورپی یونین نے بنگلہ دیش کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن نے 18 اکتوبر کو ویتنام کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یورپی یونین کے سفیر رائیمونداس کاروبلس اور یورپی یونین کے وفد کے عہدیداروں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں کہا گیا کہ یورپی یونین اپنی 16 جولائی کی جائزہ رپورٹ میں نشاندہی کردہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں نمایاں بہتری چاہتی ہے۔ یورپی یونین نئے معیارات متعارف نہیں کرا رہی، بلکہ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی خواہاں ہے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر قلیل مدت میں قابلِ تصدیق بہتری لانا اور اس کے بعد ایک قابلِ اعتماد لائحہ عمل پیش کرنا ضروری ہے۔
پی ٹی سی نے زور دیا کہ متعلقہ وزارتیں اور صوبائی حکومتیں یورپی کمیشن کے ساتھ فعال روابط قائم کریں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارۂ محنت (آئی ایل او) کے نگرانی کے اداروں کو بروقت رپورٹیں جمع کرائیں اور مقررہ آخری تاریخ سے کافی پہلے درخواست کو حتمی شکل دیں۔ کونسل نے ایک سینئر فوکل پرسن مقرر کرنے، یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سے متعلق وزیرِ اعظم کی خصوصی کمیٹی کے ذریعے پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لینے اور مشاورت کے عمل میں نجی شعبے کو شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔