✕
مارکٹس

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے عالمی تجارت پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے، ڈبلیو ٹی او

  • ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں تجارت میں نمایاں کمی ہوئی ہے،نگوزی اوکونجو ایویلا
شائع اپ ڈیٹ

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو ایویلا نے کہا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے عالمی تجارت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ مستقبل میں ممکنہ بحرانوں سے بچاؤ کے لیے کاروباری ادارے اپنی تجارتی حکمت عملی اور رسد کے راستوں میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں تجارت میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جس کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے اور تجارتی راستوں میں ہونے والی بعض تبدیلیاں مستقل بھی ہوسکتی ہیں۔ ڈبلیو ٹی او نے رواں سال خطے کی برآمدات میں 17 فیصد اور درآمدات میں تقریباً 15 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تجارت میں بہتری متوقع ہے، کیونکہ یہ نسبتاً سستا تجارتی راستہ ہے، تاہم بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں نے متبادل راستوں اور رسد کے ذرائع کی ضرورت اجاگر کردی ہے۔

ان کے مطابق جنگوں، تجارتی رکاوٹوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری محصولات کے باعث عالمی رسدی زنجیریں تبدیل ہورہی ہیں۔ بعض متبادل راستے زیادہ مہنگے ہونے کے باوجود برقرار رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے افریقی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق افریقہ کی مجموعی تجارت میں براعظم کے اندر ہونے والی تجارت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے، جبکہ یورپی یونین میں یہ تناسب تقریباً 60 فیصد ہے۔ باہمی تجارت بڑھانے سے افریقی ممالک میں روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

ڈبلیو ٹی او نے 2026 میں عالمی اشیا کی تجارت میں اضافے کی پیش گوئی 1.9 فیصد سے بڑھا کر 3.9 فیصد کردی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات کی طلب اہم کردار ادا کررہی ہے۔ تاہم نگوزی اوکونجو ایویلا نے خبردار کیا کہ جنگوں، محصولات اور مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔