وزیراعظم کا پاکستانی ہنر مندوں کیلئے یورپ میں قانونی روزگار بڑھانے پر زور
- یورپی کمشنر کو اعتماد ہے کہ پاکستان قانونی ہجرت اور افرادی قوت کی آمد و رفت بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے یورپ میں پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی نقل مکانی کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع یورپی ممالک کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ممکنہ تارکین وطن کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور و نقل مکانی میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کیا، جنہوں نے پاکستان کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی۔
غیر قانونی نقل مکانی، تارکین وطن کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس ضمن میں قانون سازی میں اصلاحات، اداروں کو مضبوط بنانے، قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کی کوششوں کے ساتھ محفوظ، منظم اور قانونی نقل مکانی کے لیے عملی مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے اور پاکستان یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نقل مکانی اور آمدورفت اس منصوبے کے آٹھ بنیادی شعبوں میں شامل ہیں۔
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور حکومت کے فراہم کردہ تعاون کو سراہا۔
انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کوششوں سے قانونی نقل مکانی کے مواقع بڑھانے اور پاکستان و یورپی یونین کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی افرادی قوت کی نقل و حرکت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔
میگنس برونر نے کہا کہ پاکستان کے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں قابلِ ستائش 64 فیصد کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے محدود وسائل کے باوجود پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی بھی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی نقل مکانی میں کمی سے قانونی نقل مکانی کے نئے راستے کھلیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی کے بعد ہمارا اگلا ہدف اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
وزیر داخلہ نے غیر قانونی نقل مکانی کے مکمل خاتمے کے لیے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قانونی نقل مکانی کو فروغ دینے اور ہنرمند کارکنوں کے لیے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں جانب سے سرحدی سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور قانونی امیگریشن کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے نقل مکانی، ادارہ جاتی تعاون اور سرحدی انتظام کے شعبوں میں اشتراک مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی نے 21 اپریل کو جاری بیان میں بتایا کہ 2025 کے دوران نقل مکانی کے راستوں پر تقریباً 7,900 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے، جس کے بعد 2014 سے اب تک ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے نقل مکانی (آئی او ایم) نے کہا کہ محفوظ راستے دستیاب نہ ہونے کے باعث لوگ خطرناک اور غیر قانونی طریقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ادارے نے ممالک پر زور دیا کہ وہ نقل مکانی کے راستوں پر مزید جانیں بچانے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔
آئی او ایم کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں نقل مکانی کے راستوں پر تقریباً 7,900 افراد کی ہلاکت یا لاپتا ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
ادارے نے بتایا کہ اس کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ نے 2014 سے اب تک نقل مکانی کے دوران 80 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت اور لاپتا ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔
آئی او ایم نے کہا کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار متاثرہ افراد کی اصل تعداد کی کم از کم حد کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم یہ نقل مکانی کے دوران اموات روکنے اور پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کی پیچیدہ ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔