✕
اداریہ

صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتیاں

  • مالی سال 2027-26 کے لیے صوبوں کا بجٹ شدہ سرپلس 1,794 ارب روپے ہے
شائع اپ ڈیٹ

رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا دورہ کرنے والا مشن حکومت کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی استحکام و پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران مشن کو صوبوں کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ وفاقی حکومت کو نقد مالیاتی سرپلس فراہم کرنے کا وعدہ کرنے کے باعث رواں مالی سال کے لیے صحت اور تعلیم کے بجٹ میں مختص رقوم کم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

مالی سال 2027-26 کے لیے صوبوں کا بجٹ شدہ سرپلس 1,794 ارب روپے ہے، جسے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے گزشتہ ایوارڈ میں طے پانے والے صوبہ وار حصص کے تناسب کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔ اس تقسیم میں پنجاب کا حصہ 51.74 فیصد، سندھ کا 24.5 فیصد، خیبر پختونخوا کا 14.62 فیصد اور بلوچستان کا 9.09 فیصد ہے۔

وفاقی حکومت کے بجٹ میں مقرر کردہ ہدف پورا کرنے کے لیے صوبائی سرپلس پر مسلسل انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں 2010 کی اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو ان کی اصل روح اور مکمل مفہوم کے مطابق نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا گیا تھا، کیونکہ اس کا مقصد قانون سازی، انتظامی امور اور مالیاتی اختیارات وفاقی حکومت سے صوبوں اور بالآخر مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا تھا۔ دوسری جانب، این ایف سی ایوارڈ مالیاتی اختیارات میں ہم آہنگی کا مظہر تھا، جس کے تحت قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ پہلے کے 49 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ پارلیمان کی جانب سے متفقہ طور پر اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کیے جانے اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالیاتی اختیارات کی ازسرِنو تقسیم پر اتفاق رائے کے سولہ سال بعد بھی، جبکہ اس عمل کو چند برسوں میں مکمل طور پر عملی شکل دی جانی تھی، وفاقی حکومت کے لیے صوبائی سرپلس پیدا کرنے کا سلسلہ آج تک کیوں جاری ہے؟

این ایف سی ایوارڈ میں یہ تصور بھی شامل تھا کہ پانچ سال تک ہر سال ٹیکس محصولات میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے ایک فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس سے وفاقی حکومت کی آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جانا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ صوبائی سرپلس پر انحصار کم ہو جانا چاہیے تھا۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت سے کیے گئے ان مثبت فیصلوں پر بعد میں سرگرمی سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً آج صوبے اپنے عوام کی سماجی شعبوں سے متعلق ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والے وزرائے خزانہ، جن میں وہ وزرائے خزانہ بھی شامل ہیں جنہوں نے آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی حمایت کی تھی، مسلسل یہ شکوہ کرتے رہے کہ وفاقی حکومت کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے اس صورتِ حال سے کثیرالجہتی قرض دہندگان کو بھی آگاہ کیا، جنہوں نے اپنی دستاویزات میں وفاقی اور صوبائی وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم، ایسا توازن قائم کرنے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ بعد کے مالیاتی ایوارڈز میں صوبوں کے حصے کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

حالیہ عرصے میں روایتی ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر خاصی بحث ہوئی ہے، جسے وزیر داخلہ محسن نقوی کے وقفے وقفے سے سامنے آنے والے حمایتی بیانات نے تقویت دی ہے۔ اس بحث میں نظام کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، جس سے مراد متعدد نئے صوبوں کا قیام ہے یا، جیسا کہ بعض تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے، انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا تاکہ نچلی سطح پر عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔

سندھ حکومت پہلے ہی اس اقدام کی مخالفت کر چکی ہے، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی اس تجویز سے زیادہ اتفاق نہیں رکھتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی نے بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی، حالانکہ ان دونوں اقدامات کو تمام سیاسی جماعتوں کی وسیع تر اتفاقِ رائے کی حمایت حاصل تھی اور ان کے ذریعے یہی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کابینہ کے لیے بہتر ہوگا کہ سیاسی حلقوں میں غیر ضروری تنازع کھڑا کرنے کے بجائے پارلیمان سے پہلے ہی منظور شدہ ترامیم اور اتفاقِ رائے سے طے پانے والے این ایف سی ایوارڈ پر ان کی اصل روح اور مکمل مفہوم کے مطابق نظرثانی اور عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ سیاسی حلقوں میں ایسا غیر ضروری تنازع منڈی کے رجحان اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026