✕
پاکستان

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسترد، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاریوں کی مذمت کردی

  • چیئرمین تحریک انصاف نے اس اقدام کو سنگین سیاسی غلطی قرار دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے جمہوری مینڈیٹ اور خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ پارٹی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان کی مبینہ گرفتاریوں کی بھی مذمت کی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فیصلے کو ’’سنگین سیاسی غلطی‘‘ اور غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ صوبے کے عوام اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے۔

ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنے انتخابی مینڈیٹ کے تحفظ کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق صوبائی خودمختاری کو نقصان پہنچا کر یا وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی بڑھا کر امن و استحکام قائم نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں پر کوئی اختلاف نہیں، تاہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو عوامی آواز دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی عوام کے مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ واپس لینا سیاسی دانش مندی کا مظاہرہ ہوگا اور اس سے مزید سیاسی و معاشی نقصان سے بچنے میں مدد ملے گی۔

جنید اکبر کی گرفتاریوں کی مذمت

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پوسٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی مبینہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملک میں بڑھتی ہوئی آمرانہ سوچ کا ثبوت قرار دیا گیا۔

پوسٹ میں الزام لگایا گیا کہ حکام جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ سیاسی اختلافات کو گرفتاریوں اور دباؤ کے بجائے مذاکرات اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

جنید اکبر نے خیبر پختونخوا کے عوام پر زور دیا کہ وہ پُرامن اور آئینی طریقوں سے اپنے انتخابی مینڈیٹ اور جمہوری حقوق کا دفاع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری سے پارٹی کی جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام کے امن اور مستقبل کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے آئینی حقوق کی ناقابل قبول خلاف ورزی قرار دیا۔

ایک بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی مسلسل دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے، تاہم انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں نے موجودہ صورت حال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امن جرگے کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے، جن کی تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ قرارداد کے ذریعے حمایت کی گئی تھی۔

اسد قیصر نے کہا کہ اہم قومی معاملات میں عوام کے بنیادی حقوق اور آئینی اختیارات کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔

انہوں نے اس اقدام کو صوبے کے آئینی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی آئینی اور جمہوری طریقوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

پی ٹی آئی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا

پی ٹی آئی نے اپنے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ذریعے جاری ایک الگ بیان میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کی سخت مذمت کی۔ پارٹی نے اسے عوام کے جمہوری مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی وفاقی نظام پر سنگین حملہ قرار دیا۔

پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی مبینہ گرفتاریوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا صوبائی وزیر عارف احمد زئی نے وزیراعلیٰ کی مبینہ گرفتاری کے بعد ویڈیو پیغام میں کہا کہ پارٹی اس کارروائی سے خوف زدہ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ ہم خوف زدہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی پیچھے ہٹیں گے۔

پس منظر

اس سے قبل اتوار کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اختیارات استعمال کرنے کی سفارش کی منظوری دی تھی۔

یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں وزرا کو صوبے کی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بریفنگ دی گئی۔

کابینہ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت جان بوجھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور ہورہی ہے۔ کابینہ نے سفارش کی کہ وزیراعظم صدر مملکت کو اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ دیں۔

آئین کا آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے اندرونی خلفشار کی مخصوص صورتوں میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو، جبکہ آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام ناکام ہونے کی صورت حال سے متعلق ہے۔

اس اقدام کے بعد وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ان اقدامات کو عدالت میں چیلنج کرے گی جنہیں وہ غیر آئینی سمجھتی ہے۔