ترقی کے امکانات کے باوجود پاکستان کی پولٹری برآمدات محدود ہیں، اورنگزیب
- وفاقی وزیر خزانہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو پاکستانی پولٹری مصنوعات کے لیے ممکنہ منڈیاں قرار دیا
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی پولٹری صنعت میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم عالمی منڈیوں میں مسابقت کے لیے بیماریوں پر قابو پانے، مرغیوں کی خوراک کی لاگت کم کرنے اور کولڈ چین کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ایکسپو سینٹر میں 26ویں بین الاقوامی پولٹری نمائش سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی 530 ملین ڈالر کی گوشت کی برآمدات میں پولٹری کا حصہ تقریباً 23 سے 24 ملین ڈالر ہے۔ ان کے بقول، ’’یہ اعداد و شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پولٹری صنعت کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’پاکستان دنیا میں پولٹری پیدا کرنے والا 11واں بڑا ملک ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم پہلے دس بڑے پیداواری ممالک میں کیسے شامل ہوں اور پھر پہلے پانچ میں جگہ کیسے بنائیں؟‘‘
اورنگزیب نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کو پاکستانی پولٹری مصنوعات کے لیے ممکنہ منڈیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صنعت ملک کی گوشت کی برآمدات بڑھانے میں زیادہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’برآمدات کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک ہمارے برادر ممالک ہیں اور ممکنہ منڈیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وسطی ایشیا میں بھی نئے مواقع سامنے آرہے ہیں، جن میں قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں بھی امکانات موجود ہیں۔‘‘
اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ سے قبل ٹیکسوں سے متعلق امور پر صنعت کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور اس شعبے کی جانب سے اٹھائے گئے ٹیکس پالیسی کے خدشات کا جائزہ لیا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ ٹیکس صرف ایک مسئلہ ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے بیماریوں کی روک تھام، مرغیوں کی خوراک اور دیگر پیداواری اشیا کی لاگت، پروسیسنگ کی سہولتوں اور کولڈ چین کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے اس صنعت کی ملکی اور عالمی سطح پر موجود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’میں اس نکتے پر زور دینا چاہتا ہوں کیونکہ اگرچہ یہ مسئلہ صرف پولٹری صنعت تک محدود نہیں، سیلز ٹیکس صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی کاروبار صارف سے یہ ٹیکس وصول کرے لیکن اسے قومی خزانے، وزارتِ خزانہ یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جمع نہ کرائے تو اس سے زیادہ سنگین بدعنوانی کا تصور کرنا مشکل ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اسی لیے ہم نے سیلز ٹیکس چوری روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کا آغاز چینی کی صنعت سے کیا گیا۔‘‘
اورنگزیب نے کہا کہ سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام سے وصول ہونے والی اضافی آمدن ایسے شعبوں کی معاونت کے لیے استعمال کی جائے گی جن میں ترقی کے وسیع امکانات ہیں، جن میں پولٹری کی صنعت بھی شامل ہے۔