✕
کاروبار اور معیشت

پی آئی اے اور نورس اٹلانٹک میں دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنرز کا معاہدہ

  • پروازوں کا آغاز نومبر 2026 کے اوائل سے متوقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ناروے کی ہولڈنگ کمپنی اور پبلک ٹریڈڈ کم لاگت، طویل فاصلے کی پروازیں چلانے والے ایئرلائن گروپ نورس اٹلانٹک اے ایس اے کے ساتھ دو جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کے لیے اہم اے سی ایم آئی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پی آئی اے کی طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق پروازوں کا آغاز نومبر 2026 کے اوائل سے متوقع ہے جس سے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان متعدد مقامات کے درمیان فضائی رابطے بہتر ہوں گے۔

اس شراکت داری کے تحت نورس طیارے، عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس فراہم کرے گی جس سے پی آئی اے کو اپنے فضائی روٹس میں توسیع دینے میں مدد ملے گی جبکہ نورس اپنے سابقہ اے سی ایم آئی آپریشن سے طیاروں اور دیگر وسائل کو دوبارہ تعینات کر سکے گی۔

نورس اٹلانٹک کے چیف ایگزیکٹو افسر ایوِنڈ رولڈ نے کہا کہ ہم پی آئی اے کی طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش بڑھانے اور برطانیہ اور پاکستان کے درمیان فضائی رابطوں کو مضبوط بنانے میں تعاون پر خوش ہیں۔ اس اقدام سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو دونوں ممالک کے درمیان سفر کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسے دونوں کمپنیوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا آغاز سمجھتے ہیں۔

دسمبر 2025 میں نجکاری کے اہم مرحلے کے بعد پی آئی اے نے ادارے میں جامع تبدیلیوں کا آغاز کیا ہے جس کا محور طیاروں کے بیڑے کو تیزی سے جدید بنانا، ڈیجیٹل جدت متعارف کرانا اور تزویراتی بنیادوں پر فضائی روٹس میں توسیع کرنا ہے۔ پی آئی اے کے بیڑے میں بوئنگ 777 اور ایئربس 320 سمیت 31 طیارے شامل ہیں جب کہ اس کے پروازوں کے نیٹ ورک کا دائرہ چین سے شمالی امریکا تک پھیلا ہوا ہے۔

جمعرات کو پاکستان اور برطانیہ نے فضائی شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا جس میں پی آئی اے کے لیے ایئربس اور رولز رائس کے طیاروں اور انجنوں کے حصول کے ممکنہ انتظامات بھی شامل تھے۔ فوری طور پر طیاروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے برطانیہ کی جانب سے برآمدی قرضوں کی معاونت اور لیز پر طیارے حاصل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

گزشتہ ماہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کے چیئرمین جان جووانووچ سے ملاقات کی تھی جس میں پی آئی اے کیلئے مجوزہ طیاروں کی خریداری، بالخصوص بوئنگ 787 ڈریم لائنرز کے حصول کے لیے مالی معاونت کے مواقع پر بات چیت ہوئی۔ وزیر خزانہ نے بوئنگ طیاروں میں پی آئی اے کی دلچسپی اور غیر فعال بوئنگ 777 طیاروں کو دوبارہ سروس میں لانے کے لیے اسپیئر پارٹس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر عامر حیات نے کہا کہ برطانیہ پی آئی اے کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے اور اس معاہدے سے ہمیں مطلوبہ گنجائش بڑھانے کے ساتھ ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو زیادہ سہولت اور بہتر فضائی رابطے فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نورس اٹلانٹک کے ساتھ شراکت داری پر خوش ہیں کیونکہ ہم اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستانی مارکیٹ میں پہلی مرتبہ ڈریم لائنر طیارے متعارف کرائے جارہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ طیارے ہمارے قابلِ قدر مسافروں کو ایک یادگار سفری تجربہ فراہم کریں گے جو اپنی قومی فضائی کمپنی سے اعلیٰ معیار کی خدمات کی توقع رکھتے ہیں۔

نورس اٹلانٹک ایئرویز کے پاس ایندھن کی بچت کرنے والے 12 جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کا بیڑا ہے۔ کمپنی شمالی امریکا، یورپ، افریقا اور ایشیا کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلاتی ہے۔