پٹرولیم لیوی پر قومی اسمبلی میں رائے شماری کرانے پر حکمران اتحاد کا غور
- لیوی پر براہِ راست پارلیمانی رائے شماری سے گریز کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے، نوید قمر
حکمران اتحاد قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پٹرولیم لیوی پر پارلیمانی رائے شماری کرانے پر غور کررہا ہے تاکہ اس اقدام کو قانونی و پارلیمانی تحفظ فراہم کیا جا سکے جسے ابتدا میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وفاقی حکومت کے ایسے اخراجات کے طور پر نافذ کیا گیا تھا جن کیلئے پارلیمان سے منظوری نہیں لی گئی تھی۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے پٹرولیم سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اس امکان کا انکشاف کیا۔ اجلاس کی صدارت مصطفیٰ محمود نے کی۔
نوید قمر نے پٹرولیم لیوی کے معاملے میں حکومت کو حاصل وسیع اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس پر پارلیمانی نگرانی بڑھائی جائے اور لیوی کی منظوری کے طریقہ کار کے حوالے سے آئینی وضاحت یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کو غیر ٹیکس آمدن میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے فی الحال اس پر پارلیمان میں براہِ راست رائے شماری نہیں ہوتی اور حکومت واضح قانون سازی کی منظوری کے بغیر ایندھن کی قیمتوں سے متعلق فیصلوں پر اختیار رکھتی ہے۔
نوید قمر کے مطابق پٹرولیم لیوی کا ابتدائی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دینا تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہ وفاقی حکومت کی بنیادی آمدن کا مستقل ذریعہ بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیمتیں کم ہوں تو ہم (حکومت) آمدن حاصل کرتے ہیں اور قیمتیں بڑھ جائیں تب بھی ہم آمدن حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قانون سازی کی منظوری کا اطلاق بنیادی طور پر گرانٹس کے مطالبات اور مالی اخراجات پر ہوتا ہے، نہ کہ عمومی پالیسی دستاویزات پر۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے پٹرولیم لیوی جیسے غیر ٹیکس آمدن کے اقدامات پر کبھی براہِ راست رائے شماری نہیں ہوئی بلکہ پارلیمان کی جانب سے مجموعی بجٹ کی منظوری کے ذریعے انہیں بالواسطہ طور پر منظور کیا جاتا رہا ہے۔
نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ لیوی پر براہِ راست پارلیمانی رائے شماری سے گریز کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو چاہیے کہ وہ مجموعی بجٹ دستاویزات اور گرانٹس کے مطالبات کے ذریعے بالواسطہ منظوری پر انحصار کرنے کے بجائے اس غیر ٹیکس اقدام پر باضابطہ اختیار قائم کرے۔
نوید قمر کے جواب میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ بنیادی مالیاتی سرپلس کا ہدف برقرار رکھنے میں مدد کے لیے پٹرولیم لیوی کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ خزانہ اس معاملے پر مزید وضاحت دے سکتی ہے۔
اس سے قبل کمیٹی کے رکن اسد عالم نیازی نے تجویز دی کہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن کا چھ سے 10 ماہ کے عرصے کا جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ اس کے مالی بوجھ کو صارفین سے کتنی تیزی سے اور محفوظ طریقے سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک کھرب 67 ارب 60 کروڑ روپے (1.676 ٹریلین روپے) وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) دونوں پر اوسطاً 80 روپے فی لیٹر لیوی فرض کرتے ہوئے طے کیا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں اس مد میں ایک کھرب 56 ارب 70 کروڑ روپے (1.567 ٹریلین روپے) وصول کیے گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق، اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان حالیہ تکنیکی مذاکرات میں ملک کے مالیاتی اہداف، پٹرولیم لیوی اور 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت آمدن بڑھانے کے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز رہی۔
دریں اثنا، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے بھاری پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو ان کی جماعت احتجاجی مہم میں شدت لائے گی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔