✕
کاروبار اور معیشت

حکومت کا 2035 تک مارگیج فنانس کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ

  • پریزنٹیشن میں تعمیراتی شعبے سے منسلک 72 صنعتوں کی معاونت کو اجاگر کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے 2035 تک مارگیج فنانس کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی ہے، جو اس وقت 0.5 فیصد سے بھی کم ہے۔ منصوبہ بندی وزارت کے مطابق نئے ہاؤسنگ اصلاحاتی فریم ورک کے تحت سالانہ 3 سے 4 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ اصلاحاتی فریم ورک سے متعلق تجاویز پلاننگ کمیشن کے رکن وقاص انور نے اڑان پاکستان فریم ورک کے تحت آٹھویں نیشنل اکنامک مشن کے اجلاس میں پیش کیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔

پریزنٹیشن میں مالی سال 2029 تک اراضی کے ریکارڈ، تعمیراتی اجازت ناموں، ویلیوایشن اور جائیداد کی منتقلی کو ڈیجیٹل بنانے کی تجویز بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ تعمیراتی منصوبوں کی منظوری کے لیے ون ونڈو نظام، تعمیراتی مراحل کی تصدیق سے منسلک مراعات اور جائیداد کے لین دین کے لیے محفوظ ایسکرو ادائیگیوں کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر شعبے کو متحرک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، کیونکہ ان کا تعلق متعدد صنعتوں سے ہے اور یہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرتے ہیں۔

پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبہ 72 متعلقہ صنعتوں کو سہارا دیتا ہے اور ملکی روزگار میں تقریباً 9.5 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ہاؤسنگ کے سنگین بحران کا سامنا ہے، آبادی میں اضافے کے باعث رہائش کی طلب بڑھ رہی ہے جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی مناسب رہائشی سہولیات سے محروم ہے۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی شہری آبادی 2017 میں تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر 2023 میں 9 کروڑ 40 لاکھ ہوگئی۔ سالانہ ہاؤسنگ طلب کا تخمینہ 7 لاکھ یونٹس لگایا گیا ہے جبکہ رسد صرف 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس ہے، جس کے باعث سالانہ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار گھروں کی کمی کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر نے محدود زمین کے بہتر استعمال اور عمودی تعمیرات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بے قابو افقی پھیلاؤ سے زرعی اراضی کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے 2022 کے درمیان اسلام آباد میں تعمیر شدہ علاقوں میں 104 فیصد، لاہور میں 59 فیصد، کراچی میں 43 فیصد، پشاور میں 44 فیصد اور کوئٹہ میں 72 فیصد اضافہ ہوا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو نئی ٹیکنالوجی، جدت اور زیادہ مؤثر تعمیراتی طریقے متعارف کرا کے تعمیراتی طریقوں کو جدید بنانا ہوگا۔

انہوں نے پاکستان میں ہنرمند اور تکنیکی افرادی قوت کی بڑی تعداد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کارکنوں نے مشرق وسطیٰ میں تعمیراتی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کو عالمی سطح پر مضبوط موجودگی قائم کرکے بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط معیشت کی تعمیر کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ صرف ملکی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کمانے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی ترقی دینا چاہیے۔