✕
پاکستان

سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات دسمبر 2025 تک 7.22 کھرب روپے ہوگئے

  • خسارہ برداشت کرنے والے ادارے فی کاروباری دن تقریباً 2.8 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے مجموعی جمع شدہ نقصانات دسمبر 2025 تک 22 فیصد بڑھ کر 7.22 کھرب روپے ہوگئے، جو ایک سال قبل 5.89 کھرب روپے تھے۔ وفاقی وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق خسارہ برداشت کرنے والے ادارے فی کاروباری دن تقریباً 2.8 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے انہیں روزانہ تقریباً 6.6 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی ششماہی رپورٹ برائے مالی سال 2025-26 کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ایس او ایز کے مجموعی نقصانات 342.8 ارب روپے رہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 342.9 ارب روپے تھے۔ اس دوران حکومت کی مالی معاونت 31 فیصد بڑھ کر 804 ارب روپے ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق ایس او ایز کا مجموعی منافع 7 فیصد کم ہوکر 423.3 ارب روپے رہ گیا، جو گزشتہ سال 457.2 ارب روپے تھا، جبکہ خالص ایڈجسٹڈ منافع 30 فیصد کمی سے 80.5 ارب روپے ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے ایکویٹی انجیکشن 190 فیصد بڑھ کر 224.6 ارب روپے اور حکومتی قرضے 79 فیصد اضافے سے 164.8 ارب روپے ہوگئے۔ سبسڈیز 332.2 ارب روپے جبکہ گرانٹس 82.3 ارب روپے رہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایکویٹی انجیکشن میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کی ادائیگیاں تھیں، تاہم چھ ماہ کے دوران گردشی قرضے میں مزید 143 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

دوسری جانب ایس او ایز کی جانب سے وفاقی حکومت کو مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 839 ارب روپے فراہم کیے گئے، جو گزشتہ سال کے 1.04 کھرب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد کم ہیں۔ نتیجتاً اداروں کی حکومت کو ادائیگی اور حکومت کی جانب سے معاونت کے درمیان خالص مالی بہاؤ 427 ارب روپے سے کم ہوکر صرف 35.8 ارب روپے رہ گیا۔

رپورٹ کے مطابق خسارہ برداشت کرنے والے اداروں میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا نقصان سب سے زیادہ 124.7 ارب روپے رہا، جس سے اس کے مجموعی جمع شدہ نقصانات 2.17 کھرب روپے ہوگئے۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کا نقصان 35.3 ارب، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی 34.9 ارب، پاکستان ریلوے 29.4 ارب، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی 23.7 ارب، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی 21.6 ارب اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا نقصان 18 ارب روپے رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایس او ایز کا مجموعی قرض، ضمانتوں کو چھوڑ کر، 14 فیصد اضافے سے 10.1 کھرب روپے ہوگیا، جبکہ واجب الادا سود 2.18 کھرب اور غیر فنڈ شدہ پنشن واجبات 1.98 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ بجلی اور گیس کے گردشی قرضے آئی ایف آر ایس بنیاد پر 3.38 کھرب روپے رہے، تاہم اضافی سہولیات اور سرچارج سمیت مجموعی رقم تقریباً 4.9 کھرب روپے بنتی ہے۔

سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے خبردار کیا کہ ایس او ایز مالیاتی استحکام، سرکاری قرضوں اور ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں گہرائی میں جاکر ساختی اصلاحات، بہتر لاگت وصولی، مضبوط انتظامی نظام اور مسلسل خسارے میں رہنے والے اداروں کی تنظیم نو پر زور دیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026