✕
پاکستان

وزیراعظم کی لائیو اسٹاک برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کی منظوری

  • لائیو اسٹاک شعبے کو کارپوریٹ بنیادوں پر منظم کیا جائے، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو خصوصی فارمز کے لیے اعلیٰ پیداوار اور بہتر نسل کے مویشیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی منظوری دیتے ہوئے برآمدی مقاصد کے لیے جانوروں کی پرورش کی ہدایت کی اور شعبہ لائیو اسٹاک میں کارپوریٹ بنیادوں پر تنظیم نو کا حکم دیا تاکہ اس کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔

وزیراعظم نے لائیو اسٹاک شعبے میں اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ خصوصی برآمدی فارمز قائم کیے جائیں جہاں درآمد کیے گئے مویشیوں کو کنٹرول شدہ ماحول میں پالا جائے اور بعد ازاں انہیں عالمی منڈیوں میں برآمد کیا جائے۔ انہوں نے جدید مویشی ٹیگنگ نظام متعارف کرانے کا بھی حکم دیا تاکہ خصوصی فارمز کے لیے درآمد کیے گئے جانوروں کی بالآخر برآمد یقینی بنائی جاسکے۔

شہباز شریف نے کہا کہ لائیو اسٹاک شعبے کو کارپوریٹ بنیادوں پر منظم کیا جائے اور اصلاحات کی تیاری و عملدرآمد میں نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے گوشت اور مویشیوں کی برآمد کے لیے واضح اہداف مقرر کرنے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے دو ہفتوں میں منصوبہ تیار کرنے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور عالمی معیار کی پابندی یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 5.5 کھرب روپے ہے۔ لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد اور زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ سالانہ پیداوار میں تقریباً 7 کروڑ 46 لاکھ 90 ہزار ٹن دودھ اور 63 لاکھ 10 ہزار ٹن گوشت شامل ہے۔

حکام کے مطابق تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں، تاہم شعبہ اب بھی زیادہ تر چھوٹے پیمانے کی فارمنگ پر مشتمل ہے۔ بکھری ہوئی سپلائی چین بھی برآمدی صلاحیت سے بھرپور استفادے میں رکاوٹ ہے۔

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات تقریباً 53 کروڑ ڈالر رہیں، جن میں خلیجی ممالک کا بڑا حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر اہم برآمدی منڈیاں ہیں، جبکہ ملائیشیا، سعودی عرب اور چین میں مزید توسیع کے امکانات موجود ہیں۔

حکومت جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ٹریس ایبلٹی، ویکسینیشن کی ڈیجیٹل نگرانی، منہ کھر سے پاک زونز، برآمدی معیار کے فارمز اور حلال سرٹیفکیشن سمیت مختلف اقدامات پر بھی کام کر رہی ہے، جبکہ 2028 تک گوشت کی برآمدات بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026