✕
پاکستان

فیصل کنڈی، محسن نقوی کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج، سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • ملاقات میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ مارچ کے دوران دہشت گرد سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزرنے کے لیے سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ا صوبے میں دہشت گردی کے خدشات اور پی ٹی آئی کے جاری لانگ مارچ کے تناظر میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے امکان پر غور کیا۔

خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق پشاور میں گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی پیش رفت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ مارچ کے دوران دہشت گرد سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزرنے کے لیے سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق صوبائی حکومت کا مؤقف اور کردار عوام اور صوبے کے مفاد میں نہیں تھا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ مسائل کے حل پر اتفاق رائے کے باوجود صوبائی حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا اور پالیسی میں بار بار تبدیلیاں کیں۔

ملاقات میں یہ الزامات بھی زیر بحث آئے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا لانگ مارچ کے دوران ہیلی کاپٹرز اور دیگر سرکاری وسائل استعمال کر رہے ہیں، جسے گورنر ہاؤس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

گورنر ہاؤس کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اگر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی اور تباہی سے صوبے کو محفوظ رکھنے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس آئینی کردار ادا کرے گا۔

دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے دیگر امور، جبکہ صوبے کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔