پاکستان کو مزید قوانین کی ضرورت نہیں
- پاکستان میں مسئلہ قوانین کی کمی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ریاستی صلاحیت کا فقدان ہے؛ جب تک ادارہ جاتی کمزوریاں دور نہیں ہوتیں، مزید قانون سازی بھی موجودہ مسائل کا حل نہیں بن سکتی
آئی ایم ایف کی جانب سے 174 قانونی ترامیم کے مطالبے نے پاکستان کے گہرے بحران کو بے نقاب کر دیا ہے: ملک میں پالیسیوں یا قوانین کی کمی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ ان کی تشکیل، عمل درآمد اور مؤثر نفاذ کے لیے ریاستی صلاحیت کا فقدان ہے۔
آئی ایم ایف اس خلا سے بخوبی آگاہ ہے، کیونکہ وہ توانائی کے شعبے، سرکاری ملکیتی اداروں، ٹیکس دائرہ کار میں توسیع اور مالیاتی اصلاحات سے متعلق اپنے بارہا مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کا تجربہ کر چکا ہے۔ اس کے باوجود وہ توقع کر رہا ہے کہ قانونی ترامیم نظام کی خامیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
پاکستان سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کے لیے بارہا اقدامات کرچکا ہے، لیکن ان میں سے اکثریت اب بھی قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ بنی ہوئی ہے۔ اب آئی ایم ایف سرکاری اداروں کے بہتر انتظام، زیادہ شفافیت اور ریاستی تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ محدود کرنے پر زور دے رہا ہے، حالانکہ وہ پوری طرح جانتا ہے کہ اس کی ہدایات اور ان پر عمل درآمد کے درمیان خلیج مسلسل وسیع ہوتی جارہی ہے۔
پاکستان آئی ایم ایف پروگراموں کے تحت موجودہ قوانین میں تقریباً 174 ترامیم کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ ترامیم میں مالیاتی شعبے کا انتظام، سرکاری ملکیتی ادارے، ترسیلات زر، موسمیاتی پالیسی، ضابطہ کاری اور دیگر شعبے شامل ہیں۔
یہ صورت حال زمینی حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ’’کاغذات کے انبار ایک سرکاری ادارے سے دوسرے ادارے تک غیر معینہ مدت تک منتقل ہوتے رہیں گے، جبکہ عوام کو کسی ریلیف کی امید ایک دور کا امکان بن کر رہ جائے گی۔‘‘
اصل کہانی قوانین کی تعداد نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو یہ تعداد پاکستانی ریاست کے طرز حکمرانی کے بارے میں آشکار کرتی ہے۔
کئی دہائیوں سے پاکستان نے ساختی مسائل کا جواب قوانین، پالیسیوں، کمیٹیوں، اتھارٹیز اور ضابطہ کار اداروں کے قیام کی صورت میں دیا ہے۔ تاہم ان پر عمل درآمد کی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ ملک میں ایسے منصوبوں کا انبار لگ گیا جن پر عمل نہیں ہوا، خودمختاری سے محروم ادارے قائم ہوئے، ایسے ضوابط بنے جن کا نفاذ نہیں ہوسکا اور ایسے قوانین منظور ہوئے جن میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔
نتیجتاً ریاست طویل المدت حکمت عملی وضع کرنے کے بجائے بحرانوں سے نمٹنے کی ہنگامی کارروائیوں میں الجھ کر رہ گئی ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کا زوال—جس پر گزشتہ ہفتے میری اشاعت میں تفصیل سے بات کی گئی تھی—اسی وسیع تر ادارہ جاتی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک زمانے میں اقتصادی سوچ اور طویل المدت منصوبہ بندی کا مرکز سمجھے جانے والے اس ادارے نے بتدریج اپنا اختیار اور صلاحیت کھو دی۔ مسئلہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ طرز حکمرانی کے معیار اور تسلسل میں وسیع تر گراوٹ کی عکاسی کرتا تھا۔
معیشت کے مختلف شعبوں میں بھی یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔
ٹیکس اصلاحات میں بھی ڈیجیٹلائزیشن، آڈٹ، ٹیکس تعمیل اور ادارہ جاتی تنظیم نو پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ٹیکس قوانین موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ریاست کو ان قوانین کے انتظام و نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کاروباری ماحول بھی اسی کہانی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان سرمایہ کاری پالیسیاں، خصوصی اقتصادی زونز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور متعدد مراعات متعارف کرا چکا ہے۔ اس کے باوجود کاروباری اداروں کو اب بھی ضابطہ جاتی غیر یقینی، اختیارات کی باہمی مداخلت، ٹیکس سے متعلق مسائل اور انتظامی تاخیر کا سامنا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اب ضابطہ کاری کو سادہ بنانے، قومی ضابطہ جاتی رجسٹری کے قیام اور کارپوریٹ قوانین میں تبدیلیوں پر زور دیا جارہا ہے۔ تاہم ایک اور قانون منظور کر دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جب تک حکومت کے پاس نظام کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نظم و ضبط اور انتظامی صلاحیت موجود نہ ہو۔
اچھی طرز حکمرانی صرف قانون سازی سے وجود میں نہیں آتی۔ اس کے لیے واضح قواعد کے تحت کام کرنے والے باصلاحیت ادارے، قابل پیمائش اہداف، تسلسل، جواب دہی اور سیاسی سرپرستی ضروری ہے۔
پاکستان نے ان میں سے کئی بنیادی ستون کمزور کر دیے ہیں۔
سول سروس، جو کبھی پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کا بنیادی اور مؤثر ذریعہ تھی، اب تیزی سے قلیل مدتی انتظامی دباؤ اور سیاسی تقاضوں کی نذر ہوتی جارہی ہے۔ افسران کے بار بار تبادلے، ادارہ جاتی تنظیم نو اور مخصوص مقاصد کے لیے نئے اداروں کی بھرمار نے پیشہ ورانہ تسلسل اور طویل المدت پالیسی مہارت کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے براہِ راست معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس کی شرحوں اور مراعات کو نہیں دیکھتے بلکہ ریاستی نظام حکمرانی میں قابلِ اعتماد اور مستقل رویے کے بھی خواہاں ہوتے ہیں۔ طرز حکمرانی اقتصادی ترقی سے الگ کوئی معاملہ نہیں، بلکہ یہ خود ایک معاشی عامل ہے۔
کمزور ادارے کاروباری لاگت میں اضافہ کرتے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے، پیداواری صلاحیت گھٹاتے اور خطرات کے باعث سرمایہ کاری کی اضافی لاگت بڑھاتے ہیں۔
پاکستان اب ان اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی آئی ایم ایف پر بڑھتا ہوا انحصار کر رہا ہے جو دراصل اس کے اپنے قومی طرز حکمرانی کے ایجنڈے کا حصہ ہونی چاہئیں۔ بیرونی نظم و ضبط حکومتوں کو داخلی مزاحمت پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن کوئی بھی ملک ہمیشہ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کی ذمہ داری کسی بین الاقوامی قرض دہندہ کو نہیں سونپ سکتا۔
مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اصلاحات اس لیے کی جائیں کہ پاکستان خود سمجھتا ہو کہ اس کی معیشت اور معاشرے کو کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بنیادی تبدیلی درکار ہے: پالیسیوں کے انبار سے عمل درآمد کی طرف، عارضی کمیٹیوں سے مستقل اداروں کی طرف، سیاسی نوعیت کے فوری بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے طویل المدت حکمت عملی کی طرف، اور منظور شدہ قوانین کی تعداد گننے کے بجائے حاصل شدہ نتائج کو جانچنے کی طرف۔
اس عمل میں پارلیمنٹ کا اہم کردار ہے۔ قانون سازی کو اصلاحات کی حتمی پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر اہم قانون میں عمل درآمد کا واضح طریقہ کار، ذمہ دار اداروں کی نشاندہی، کارکردگی جانچنے کے قابلِ پیمائش اشاریے اور باقاعدہ آزادانہ جائزے کا نظام شامل ہونا چاہیے۔
پاکستان کو طرز حکمرانی میں اعلیٰ معیار بھی بحال کرنا ہوگا۔ اہلیت، ادارہ جاتی یادداشت، پیشہ ورانہ تسلسل، شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور جواب دہی کو پالیسی سازی کے پورے عمل کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا، نہ کہ ناکامی کے بعد محض ان کا حوالہ دیا جائے۔
چنانچہ مجوزہ 174 ترامیم کو پاکستانی ریاست کی حالت کا عکاس آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔
ملک میں باصلاحیت افراد یا اچھی سوچ کی کمی نہیں۔ پاکستان ایسے افراد سے مالا مال ہے۔ انہیں سازگار ماحول میسر آئے تو بیرون ملک ان کی کارکردگی قابلِ رشک ہوتی ہے۔ اصل کمی ایسے ادارہ جاتی ماحول کی ہے جہاں صلاحیت مستقل بنیادوں پر قومی نتائج میں تبدیل ہوسکے۔
پاکستان صرف قانون سازی کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کرسکتا، نہ ساختی کمزوریوں سے نکلنے کے لیے قرضوں کا سہارا ہمیشہ لے سکتا ہے اور نہ ہی ملکی کمزوریوں کی تلافی کے لیے بیرونی پروگراموں پر غیر معینہ مدت تک انحصار کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کو حقیقی اصلاح جس چیز کی ضرورت ہے وہ ریاستی صلاحیت کی بحالی ہے: آئندہ بحران سے آگے دیکھنے، شواہد کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل دینے، فیصلوں پر پیشہ ورانہ انداز میں عمل درآمد کرنے اور اداروں کو نتائج کے لیے جواب دہ بنانے کی صلاحیت۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا، پاکستان قوانین، منصوبوں اور اصلاحاتی پروگراموں کی تیاری جاری رکھے گا، مگر انہی مسائل کا سامنا بھی کرتا رہے گا۔
طرز حکمرانی کا حتمی امتحان یہ نہیں کہ ریاست کتنے قوانین بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کو کس حد تک عملی شکل دے سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026