✕
کاروبار اور معیشت

ورلڈ بینک کی ایگزم بینک کیلئے ایکسپورٹ فنانس مصنوعات تیار کرنے کی تجویز

  • وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک نے اضافی تجارتی سرگرمیوں کو معاونت فراہم کرنے کیلئے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگزم بینک) کے لیے برآمدی فنانسنگ کی مصنوعات تیار کرنے کی تجویز دی جبکہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے نے سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی کے فروغ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا۔

جمعہ کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاآبازار کررہی تھیں۔ ملاقات میں جاری اقتصادی اصلاحات کی شراکت داری کے تحت پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور معاشی نمو، روزگار، مالیاتی انتظام، محصولات میں اضافے، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عمل درآمد کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کی منصوبہ بندی سے مؤثر عمل درآمد کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ایسے عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے جو معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ملاقات میں عالمی بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، فنانسنگ تک رسائی، مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت اور لیبر مارکیٹ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

عالمی بینک نے سرمایہ کاری کے فریم ورک، کاروباری اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی اورایس ایم ایز کیلئے فنانسنگ تک رسائی سے متعلق مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔

مذاکرات میں وزیراعظم کے ایکسس ٹو فنانس اقدام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں دیوالیہ پن کے لیے یکساں فریم ورک، ایس ایم ای فنانسنگ کی معاونت کے لیے فیکٹرنگ سے متعلق قانون سازی اور ضوابط، کمرشل فنانسنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے عالمی بینک نے دواسازی اور طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان میں بیجوں کی رجسٹریشن کے نظام میں بہتری، بعض اجناس کو ضابطوں سے مستثنیٰ کرنا اور بین الاقوامی خریداری اور منڈیوں میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی ایکریڈیٹیشنز کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

ملاقات میں ہنرمندیوں کی ترقی اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، پاکستانی ہنرمندیوں کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ منظوری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی معاونت سے بیرونِ ملک باقاعدہ ہجرت کے راستے وضع کرنا شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد نے قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا جائزہ لیا جس میں آٹوموٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ گفتگو میں مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کے مزید انضمام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مالیاتی اور محصولات سے متعلق اصلاحات کے حوالے سے ملاقات میں ٹیکس پالیسی کی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں درمیانی مدت کی محصولات کی حکمتِ عملی اور محصولات سے متعلق پالیسی کی ماڈلنگ کے لیے معاونت بھی شامل ہے۔ اجلاس میں جی ایس ٹی میں ہم آہنگی کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں خدمات کے لیے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ یکسانیت، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ڈیٹا شیئرنگ کے زیادہ مؤثر انتظامات شامل ہیں۔

ملاقات میں زرعی آمدنی ٹیکس اصلاحات پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین اور قواعد پر عملدرآمد، نیز رجسٹریشن، ریٹرن جمع کرانے اور ٹیکس ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام کا نفاذ شامل ہے۔ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مذاکرات میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس اصلاحات پر بھی بات چیت کی گئی جس میں جائیداد کی قدر کے تعین کے طریقۂ کار کو بہتر اور یکساں بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط کرنے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ پر مبنی ویلیوایشن فریم ورک کی جانب بڑھنے کی کوششیں شامل ہیں۔

ملکی کیپٹل مارکیٹ کے حوالے سے ملاقات میں کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی معاونت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد ملکی کیپٹل مارکیٹ کو مزید وسعت دینا، فنانسنگ کے ذرائع میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاری و سرمایہ تشکیل کے لیے سازگار نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

ملاقات میں سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ادارہ جاتی مؤثریت مضبوط بنانے اور سرکاری وسائل کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لیے مالیاتی آلات، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کے حوالے سے ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے جاری تکنیکی تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی جانب پیش رفت کے حوالے سے عالمی بینک کی تجزیاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

عالمی بینک کے وفد نے وزیرِ خزانہ کو طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی مؤثریت سے متعلق جاری تجزیاتی کام پر بھی بریفنگ دی۔ اس موقع پر حکومت کی کارکردگی، ضابطہ جاتی معیار، شفافیت، احتساب اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تبادلۂ خیال کیا گیا۔