✕
رائے

آئی ایم ایف پروگرام کا چوتھا جائزہ

  • پٹرولیم لیوی کم کرکے 18 فیصد سیلز ٹیکس کی سطح پر لانے سے ایندھن کی قیمتیں 10 سے 15 فیصد تک کم، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مہنگائی میں کمی کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (ایف ایس ایف) کے چوتھے جائزے کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔ تیسرا جائزہ مئی 2026 میں مکمل ہوا تھا، جس کے بعد اسٹاف مشن رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک تخمینے اور درمیانی مدت کی پیش گوئیاں شامل ہیں۔

تیسرے جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معاشی شرح نمو، مہنگائی، سرکاری مالیات اور ادائیگیوں کے توازن پر ممکنہ اثرات کو بھی تخمینوں میں شامل کیا گیا تھا۔

اس کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025-26 میں 3.7 فیصد سے معمولی کمی کے بعد 2026-27 میں 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حیران کن طور پر کم شرح نمو کے باوجود بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہوکر 6.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے تحت اوسط مہنگائی 2025-26 میں 7.2 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2026-27 میں یہ بڑھ کر 8.4 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق جون 2027 میں ماہانہ مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 7 فیصد رہ سکتی ہے۔

2026-27 کے لیے ادائیگیوں کے توازن کے تخمینے نسبتاً پرامید ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے متوقع حجم کے مقابلے میں صرف 0.5 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ برآمدات میں 11.2 فیصد جبکہ درآمدات میں 7.4 فیصد اضافے کی توقع بھی اس امید کی عکاسی کرتی ہے۔ ترسیلات زر میں تقریباً صفر شرح نمو متوقع ہے۔

تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آئی ایم ایف نے مئی 2026 میں جاری جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر کہیں زیادہ منفی اثرات کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا۔ اس منفی منظرنامے میں 2026-27 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.5 فیصد پوائنٹس کمی، مہنگائی تقریباً 11 فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف اسٹاف مشن کا پہلا کام ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ نیویارک میں وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے حالیہ ملاقات بھی مثبت رہی۔ انہوں نے پاکستان کی مضبوط معاشی استحکام کی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ 2025-26 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک رہا، جو گزشتہ 22 سال کی کم ترین سطح ہے۔

آئی ایم ایف مشن 2026-27 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ کا بھی جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ آیا وہ تیسرے جائزے کے بعد مقرر کیے گئے سرکاری مالیاتی تخمینوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ امریکا ایران جنگ کے پاکستانی معیشت پر اثرات کی شدت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

سب سے پہلے 2026-27 کے بجٹ کے تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ واضح طور پر آئی ایم ایف کو اس غیر معمولی اقدام کا علم نہیں تھا کہ صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹ دینے کا کہا گیا ہے۔

چنانچہ 2026-27 کے لیے آئی ایم ایف کے مالیاتی تخمینے نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔ اول، صوبائی گرانٹ کے باعث وفاقی نان ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دوم، صوبائی حکومتوں کو محدود مالی وسائل اور زیادہ صوبائی نقد ذخائر برقرار رکھنے کی پابندی کے باعث ترقیاتی اخراجات کم رکھنا ہوں گے۔

2026-27 کے بجٹ میں کیے گئے ان غیر معمولی اقدامات پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی تبصرہ متوقع ہے۔ عام طور پر نچلی سطح کی حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کی حکومت کو اتنی بڑی گرانٹ دینا معمول کی بات نہیں ہے۔

2026-27 کے سرکاری مالی معاملات میں دو دیگر اہم امور بھی قابل ذکر ہیں۔ پہلا پٹرولیم لیوی کی متوقع وصولی کا معاملہ ہے، جو اس سال 1.7 کھرب روپے کی غیر معمولی بلند سطح پر مقرر کی گئی ہے۔

فروری 2026 سے یعنی جنگ شروع ہونے سے قبل ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی احتجاج سامنے آتا رہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات کو پٹرولیم لیوی میں موجودہ 80 روپے فی لیٹر کی بلند شرح میں نمایاں کمی کے ذریعے محدود کیا جانا چاہیے تھا۔

آئی ایم ایف اب بھی پٹرولیم لیوی کو سیلز ٹیکس کی نوعیت کا ٹیکس سمجھتا ہے۔ آئندہ چوتھے پروگرام جائزے کے دوران امید ہے کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے سامنے پٹرولیم لیوی کی شرح کم کرکے اسے ایندھن کی مصنوعات کی سی آئی ایف قیمت کے 18 فیصد کے مساوی معیاری سیلز ٹیکس کی سطح پر لانے کی تجویز پیش کرے گی۔ اس اقدام سے ایندھن کی قیمت میں تقریباً 10 سے 15 فیصد کمی ہوسکتی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اخراجات کم ہونے کے باعث مجموعی مہنگائی کی شرح بھی نیچے آئے گی اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف ملے گا، جو اس وقت اسکوٹر اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے دی جانے والی سبسڈی سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔

دوسرا معاملہ صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کوششوں کی سطح سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026-27 میں ٹیکس اصلاحات کے ذریعے اضافی 467 ارب روپے آمدنی کا ایک بلند ہدف مقرر کیا تھا، جس کا مطلب محصولات میں 54 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا۔ تاہم صوبائی حکومتوں نے 2026-27 میں اپنے ٹیکس محصولات میں 20 فیصد سے بھی کم اضافے کا ہدف رکھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، جیسا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔

جنگ کے چھ ماہ بعد صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی نقل و حرکت پر بدستور پابندیاں برقرار ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے کوئی پیش رفت نہ ہونے تک جنگ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر نسبتاً کم منفی رہا ہے کیونکہ ترسیلات زر میں 15 فیصد تیزی سے اضافہ ہوا ہے مگر اس کی ایک وجہ بیرون ملک سے واپس آنے والے کارکنوں بالخصوص متحدہ عرب امارات سے، کی جانب سے ایک مشت رقوم کی منتقلی بھی ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں ایل این جی اور دیگر ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔ مزید برآں کھاد کی قلت آئندہ فصلوں میں زرعی پیداوار کو محدود کرسکتی ہے۔

لہٰذا چوتھے جائزے میں آئی ایم ایف کی جانب سے 2026-27 کے نظرثانی شدہ تخمینوں بالخصوص ادائیگیوں کے توازن سے متعلق پیش گوئیوں میں منفی خطرات کے عوامل کو زیادہ نمایاں طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ 2026-27 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 3 فیصد سے کم، مہنگائی تقریباً 11 فیصد جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح موجودہ 21 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح سے کچھ کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے عوام کو درپیش غیر معمولی اور مشکل حالات کو سمجھتے ہوئے مناسب تعاون اور رعایت کا مظاہرہ کرے گا۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026