عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے وٹکوف کے سامنے ایرانی شرائط پیش کردیں
- شرائط میں فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کرنا اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی، جس میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط امریکا کے سامنے پیش کیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کرنا اور تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان منگل کو نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ نہ کیا تو امریکا اسے تباہ کرسکتا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقات تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی اور دونوں فریقوں کی ایک اور ملاقات جلد متوقع ہے۔