اس اخبار میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے غیر منقولہ جائیداد پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 57 فیصد اضافہ ہوا۔ یہی نہیں، بلکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مالی سال 27 کے بجٹ میں حکومت نے جائیداد کی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد تک کمی کردی ہے۔
ماہرین بجا طور پر اس ناقابلِ فہم رعایت کو ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں اور سرگرمیوں میں ہونے والے نمایاں اضافے سے منسوب کرتے ہیں۔ کراچی کے بعض علاقوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پلاٹوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔
رقم کی یہ آمد مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص متحدہ عرب امارات، سے سرمائے کے الٹ پھیر کی عکاسی کرسکتی ہے، یہ صورتحال امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران پیدا ہوئی جس کے جھٹکے پورے خطے میں محسوس کیے گئے ہیں۔ ابتدا میں ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان سے رقم کے معمول کے اخراج کی رفتار کم ہوگئی ہے۔
حالیہ عرصے میں بیرونِ ملک رکھے گئے کچھ سرمائے کی بھی واپسی ہوئی ہو سکتی ہے جس کا اندازہ ترسیلاتِ زر میں اضافے اور ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی ہوئی فراہمی سے ہوتا ہے۔
یہ خبر حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے اور ملکی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقد روپے کی دستیابی) کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ تاہم، اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اس سرمائے کو غیر پیداواری اثاثوں، بالخصوص مختلف علاقوں کے خالی پلاٹوں میں لگایا جا رہا ہے جس سے کوئی معنی خیز معاشی سرگرمی پیدا کیے بغیر قیمتوں کے بلبلے بن رہے ہیں۔
واضح طور پر یہ رقوم اسٹاک مارکیٹ میں نہیں جارہیں کیونکہ اس اثاثہ جاتی طبقے کو نہ صرف زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے فعال انتظام کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اب یہ محدود منافع کی گنجائش بھی رکھتا ہے کیونکہ مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں رئیل اسٹیٹ رقوم رکھنے کے لیے ایک نسبتاً آسان راستہ فراہم کرتا ہے جس کا اضافی فائدہ یہ ہے کہ اس میں دستاویزات کی ضروریات بھی کم ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ حقیقی کاروباری شعبوں، خواہ وہ مینوفیکچرنگ ہوں یا خدمات، میں سرمایہ کاری کرنے میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب اپنی کم ترین سطح کے آس پاس ہے اور حکومت معاشی استحکام حاصل کرنے کے باوجود سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔
وزیرِ خزانہ سے اس بات پر سوال کیا جانا چاہیے کہ وہ سرمائے کے بیرونِ ملک جانے کے رجحان کے پلٹنے کی پیشگی توقع کرنے میں کیوں ناکام رہے اور انہوں نے ان رقوم کو صنعتی شعبوں یا دیگر پیداواری ذرائع میں منتقل کرنے کے لیے مناسب ترغیبات کیوں فراہم نہیں کیں۔
بنیادی مسائل حد سے زیادہ ٹیکسوں اور صنعتی شعبے میں سست روی ہیں۔ مزید برآں، حکومت سرمایہ کاری کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے کیونکہ ضابطہ جاتی اور ٹیکس سے متعلق رکاوٹیں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ہیں۔ نتیجتاً ہماری صنعتی بنیاد متعدد شعبوں میں اپنی مسابقتی حیثیت کھورہی ہے جبکہ صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس کوششیں بالکل نظر نہیں آتیں۔
اگرچہ کچھ رقم ہنڈی حوالہ کے نظام کے ذریعے ملک میں داخل ہوتی ہے لیکن ممکن ہے کہ اس رقم کا ذریعہ اتنا شفاف نہ ہو کہ اسے دستاویزی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ مزید برآں حتیٰ کہ جب سرمایہ دستاویزی شکل میں موجود ہو، تب بھی ٹیکس اتھارٹی کا خوف سرمایہ کاروں کو رسمی شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے روکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا جائزہ لے رہی ہے جس کے ذریعے 6.5 ارب ڈالر مالیت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اگرچہ یہ اقدام دیر آید درست آید کے مترادف ہے، تاہم وزارتِ خزانہ کو اس رجحان کا پہلے ہی ادراک کرتے ہوئے بیرونِ ملک پاکستانیوں کا یہ سرمایہ بہت پہلے رسمی شعبے میں لانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر مؤثر حل متعارف کرانے چاہییں تھے۔
ہمیں اپنے بینکوں سے بھی یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ بیرونِ ملک سے آنے والی اس غیر معمولی رقوم کو بینکاری شعبے کے اندر برقرار رکھنے کے لیے کیوں کوشش نہیں کر رہے تاکہ اسے رسمی معیشت میں معاشی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، 1998ء میں ایٹمی تجربات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مقیم پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے۔
اس وقت حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے صدر شوکت ترین نے فوری طور پر ایک ایسی اسکیم کا اعلان کیا جس کے تحت بینک کے کھاتہ داروں کو ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے بھاری مالیت کے مہنگے انعامات دیے جانے تھے۔ دیگر بینکوں نے بھی جلد ہی اس کی پیروی کی۔ اس اقدام کے نتیجے میں ڈالر اکاؤنٹس منجمد کیے جانے سے پیدا ہونے والی روپے کی وسیع تر نقدی بینکاری نظام کے اندر ہی برقرار رہی، بجائے اس کے کہ وہ معیشت کے غیر پیداواری شعبوں میں منتقل ہو جاتی۔
بہرحال ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ رقوم کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی برقرار رہے گا کیونکہ جنگ ابھی کسی طور ختم نہیں ہوئی اور خلیجی خطے کیلئے درمیانی مدت کے معاشی امکانات بھی منفی نظر آرہے ہیں۔ حکومت مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کو سرمایہ رسمی شعبوں کی جانب راغب کرنے کے لیے ایک واضح حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے یا کم از کم سرمایہ کاروں کو حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی جانب مائل کرنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔
حکومت کو ہمیشہ مالی وسائل کی ضرورت رہتی ہے جس کے باعث اس وقت نجی شعبہ دباؤ کا شکار ہے۔ حکومتی سیکیورٹیز میں بیرونی رقوم کو راغب کرنے سے مالی نظام میں موجود اضافی نقدی کو پیداواری اثاثوں کی جانب منتقل ہونے کا موقع ملے گا۔
اصل بات یہ ہے کہ ملک میں سرمایہ لانے اور اس رقم کو ملک میں برقرار رکھنے کا ایک مسلسل موقع موجود ہے جو بصورتِ دیگر بیرونِ ملک منتقل ہو جاتی۔ حکومت بالخصوص وزارتِ خزانہ کو اب بیدار ہو کر اس نقدی کو بروقت درست سمت میں منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026