✕
بی آر ریسرچ

ستمبر کے بجلی بل، ایڈجسٹمنٹس کا بوجھ بڑھ گیا

  • یہ سالانہ بنیاد پر 29 فیصد اضافہ ہے اور ستمبر کے سی پی آئی کو ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رکھنے میں یہ ایک اہم عنصر ثابت ہوگا۔
شائع اپ ڈیٹ

ستمبر 2026 کے بجلی کے بل مختلف کیٹیگریز میں گزشتہ دو سال کے دوران سب سے زیادہ ہونے جا رہے ہیں، کیونکہ مختلف ایڈجسٹمنٹس نافذ العمل ہو رہی ہیں۔ بجلی کے ریگولیٹر کے حالیہ دو فیصلوں کے نتیجے میں ستمبر کی ایڈجسٹمنٹس 2.5 روپے فی یونٹ سے تجاوز کر گئی ہیں، جس کے باعث اوسط گھریلو صارف کا ٹیرف 28.23 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جیسا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے سی پی آئی طریقہ کار کے مطابق ہے۔

سالانہ بنیاد پر یہ 29 فیصد اضافہ ہے اور ستمبر کے سی پی آئی کو ڈبل ڈیجٹ میں برقرار رکھنے میں یہ ایک اہم عنصر ثابت ہوگا۔

سب سے بڑا ایڈجسٹمنٹ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو 24 ماہ کے دوران سب سے بڑی مثبت ایڈجسٹمنٹ ہے اور 2.06 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ایف سی اے محض 10 پیسے تھا، جبکہ گزشتہ ماہ یہ 75 پیسے فی یونٹ تھا۔

چونکہ ایف سی اے سابقہ مدت پر لاگو ہوتا ہے اور جولائی کے یونٹس کی کھپت پر عائد کیا جاتا ہے، جس کی بلنگ ستمبر میں ہوگی، اس لیے خاص طور پر گھریلو صارفین کو اس کا شدید اثر محسوس ہوگا۔

مطلق اعداد و شمار میں جولائی 2026 کے فیول چارجز 139 ارب روپے کے ساتھ 49 ماہ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ اتفاقاً نہیں، بلکہ آر ایل این جی کا فیول بل بھی 77 ارب روپے کے ساتھ اتنے ہی عرصے کی بلند ترین سطح پر ہے۔ صرف جون 2022 میں، جب آر ایل این جی کا فیول بل جولائی 2026 سے زیادہ تھا، بجلی کی پیداوار جولائی 2026 کے مقابلے میں تقریباً دگنی تھی۔ فی یونٹ بنیاد پر آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 47 روپے فی یونٹ ہے، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے اور 35 روپے فی یونٹ کی سابقہ بلند ترین سطح کو بھی عبور کر چکی ہے۔

آر ایل این جی کے مالیکیولز اب بھی مشکل سے دستیاب ہونے اور نرخ غیر معمولی حد تک بلند ہونے کے باعث گزشتہ ماہ اور موجودہ ماہ میں بھی اسی نوعیت کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ہائیڈل بجلی کے بہاؤ اس صورتحال میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم نیوکلیئر پاور پلانٹس کے تاخیر کا شکار مینٹیننس پلانز صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) ہے، جو نسبتاً معمولی یعنی 52 پیسے فی یونٹ ہے اور ستمبر سے نومبر تک نافذ رہے گی۔ تاہم، یہ تقریباً 2 روپے فی یونٹ کی سب سے بڑی منفی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ لے رہی ہے، اور اس کے نتیجے میں مجموعی اثر کہیں زیادہ ہوگا۔ اگرچہ یہ معمولی ہے، لیکن یہ مالی سال 24 کی آخری سہ ماہی کے بعد سب سے زیادہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی ہے۔

اس کمی کا بڑا حصہ اضافی یونٹس پر پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کی ریکوری سے مسلسل حاصل ہو رہا ہے۔

اس کا بڑا حصہ صنعتی یونٹس کی کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی سے سامنے آ رہا ہے، جس نے کیپیسٹی چارجز کے اوور رن کو روکنے میں مدد دی، جو تقریباً 44 ارب روپے کے قریب تھا۔ اگر اضافی یونٹس کے اثرات نہ ہوتے تو صرف کیپیسٹی کمپوننٹ ہی تقریباً 1.7 سے 1.8 روپے فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ کا باعث بنتا۔

صنعتی صارفین کی جانب سے کیپٹو استعمال پر ریلیف کا مطالبہ بدستور جاری ہے۔ تاہم، اب یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ یہ ریلیف نہیں مل رہا۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کی آر ایس ایف سہولت کے تحت کیپٹو بیسڈ جنریشن ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ فرنس آئل پر لیوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی ایک شرط ہے اور پروگرام کے دوران اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، چاہے کسی مرحلے پر آر ایل این جی کے مقابلے میں فرنس آئل پر بجلی پیدا کرنا زیادہ موزوں دکھائی دینے لگے۔

اس دوران نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جولائی 2026 میں اس میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.6 گنا اضافہ ہوا، جبکہ دو سال قبل کے مقابلے میں یہ تقریباً چار گنا ہوگئی ہے۔ دن اور رات کے دوران بجلی کی طلب کے رجحانات طویل عرصے سے یہی کہانی بیان کر رہے ہیں، اور میٹرڈ اور نان میٹرڈ سولر جنریشن میں اضافے کے نتیجے میں اضافی لاگت میں بہت زیادہ فرق اور گرڈ کے استحکام سے متعلق ضروریات پیدا ہوئی ہیں، جس کے باعث زیادہ مہنگے ایندھن سے بجلی پیدا کرنا پڑ رہی ہے۔

اس پس منظر میں صنعتی طلب کی صورتحال گرڈ کے مجموعی ڈیمانڈ پروفائل کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور آئندہ ایڈجسٹمنٹس پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیپٹو جنریشن سے گرڈ کی جانب منتقلی کے باعث طلب کا بنیادی حجم محدود ہوتا جا رہا ہے۔