ایران کی دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سست پڑگئی
- کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اجناس بردار بحری جہازوں کی تعداد پیر کو 7 رہی، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 8 تھی۔
ایران کی جانب سے پیر کو کسی بھی نئے امریکی حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کی دھمکی دیے جانے کے بعد رواں ہفتے کے آغاز پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت سست پڑگئی۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اجناس بردار بحری جہازوں کی تعداد پیر کو 7 رہی، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 8 تھی۔
ایران نے خبردار کیا تھا کہ خلیج بھر میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جس میں امریکی تیل اور گیس کے مفادات بھی شامل ہیں، خطرے سے دوچار ہے۔
گولڈمین سیکس نے بھی دسمبر 2026 اور 2027 کے لیے برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمتوں کے تخمینوں میں اضافہ کردیا ہے، کیونکہ بینک کو توقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں خلل آئندہ سال تک برقرار رہے گا۔
تاہم ایک اور بڑی آبی گزرگاہ باب المندب آبنائے کے ذریعے بحری آمدورفت میں اضافہ ہوا، جو اجناس بردار بحری جہازوں کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کو مجموعی طور پر 29 اجناس بردار بحری جہاز باب المندب سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی۔
ممکن ہے کہ بعض بحری جہاز دونوں آبناؤں سے گزرتے ہوئے اپنے ٹرانسپونڈر بند رکھے ہوئے ہوں، جسے ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔