✕
دنیا

روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں؛ ٹرمپ کے ایلچی ماسکو پہنچ گئے

  • یوکرینی صدر نے الزام عائد کیا کہ روس نے رات بھر کیف کے دو ہوائی اڈوں پر حملے کرکے امریکی ایلچیوں کے دورے میں خلل ڈالنے کی کوشش کی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر ہفتے کو ماسکو پہنچ گئے، جہاں وہ روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر بات چیت کریں گے۔

ماسکو میں مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھیجے گئے دونوں ایلچیوں کے کیف روانہ ہونے کی توقع ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے مہلک ترین تنازعے میں سفارتی تعطل ختم کرنے کی واشنگٹن کی تازہ ترین کوشش ہے۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس نے رات بھر کیف کے دو ہوائی اڈوں پر حملے کرکے امریکی ایلچیوں کے دورے میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جبکہ دنیپرو کے علاقے میں ایک شہری ہدف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

زیلنسکی نے ایکس پر کہا، ’’واضح طور پر یہ روسی حملے ہوائی اڈوں پر امریکی فریق کی جانب سے یوکرین آنے کے لیے طیارہ استعمال کرنے کے امکان پر جاری بات چیت اور تیاریوں کا ردِعمل ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی جانب سے ’’سفارت کاری کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔‘‘

یہ گزشتہ برس ٹرمپ کے دوبارہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد جنگ سے تباہ حال کیف کا ٹرمپ کے کاروباری دوست اسٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر کا پہلا دورہ ہوگا۔ ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد روس، یوکرین تنازع حل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

جنگ کے باعث 2022 سے یوکرین کی فضائی حدود بند ہیں، اس لیے طیارے کے ذریعے کیف پہنچنا انتہائی غیرمعمولی اقدام ہوگا۔ دورہ کرنے والے رہنما اور حکام عموماً ٹرین کے ذریعے یوکرین پہنچتے رہے ہیں۔

ایک اعلیٰ سطح کے یوکرینی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی ایلچی اتوار کو کیف پہنچیں گے، جبکہ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کے مطابق وہ ہفتے کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مذاکرات کار اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا روس، یوکرین تنازع میں امن کی جانب پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔

واشنگٹن کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امن کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں جنگ شروع ہونے کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر، دو بہترین مذاکرات کاروں کو بھیجا ہے۔ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے اور ہم نے انہیں یہ دیکھنے کے لیے روانہ کیا ہے کہ آیا ہم کوئی پیش رفت کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اور شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کا اچھا موقع ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’وہ جنگ کے خاتمے کی ایک تجویز اپنے ساتھ لے کر جارہے ہیں۔‘‘

امریکی صدر نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا اس منصوبے میں یوکرین کی جانب سے بعض علاقوں سے دستبرداری بھی شامل ہے، جیسا کہ وہ ماضی میں تجویز کرچکے ہیں، تاہم انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس امن کے لیے ایک خیال ہے۔‘‘

وٹکاف اور کشنر اس سے قبل غزہ اور ایران میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں بھی شامل رہے ہیں اور سفارتی کوششوں کے سلسلے میں متعدد مرتبہ ماسکو کا دورہ کرچکے ہیں۔

جنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

سفارتی کوششوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی یہ مہم ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب روس اور یوکرین ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے مسلسل حملے کررہے ہیں۔

ٹرمپ کے جمعے کو اعلان سے چند گھنٹے قبل، زیلنسکی کے مطابق روسی ڈرون نے وسطی کیف میں یوکرین کی سکیورٹی سروس ’ایس بی یو‘ کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔

زیلنسکی نے کہا کہ حملے کا ہدف ادارے کے قائم مقام سربراہ کا دفتر تھا۔ روسی حملہ شروع ہونے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایس بی یو کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس غیرمعمولی حملے کے باوجود یوکرینی صدر نے امریکی ایلچیوں کے دورے کے دوران روس کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے شام کے خطاب میں کہا، ’’ہماری جانب سے کوئی فضائی حملہ نہیں ہوگا اور روس کو بھی جواباً جنگ بندی یقینی بنانا ہوگی، یعنی مذاکرات کے لیے درکار مدت کے دوران روس کی جانب سے بھی کوئی فضائی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

روس نے فوری طور پر اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

چند گھنٹے بعد دنیپروپیٹرووسک کے علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکساندر گانژا نے کہا کہ جنوب مشرقی شہر کامینسکے میں روسی حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

وٹکاف اور کشنر کا یہ دورہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ماسکو کے غیرمعمولی دورے کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد ہورہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ریٹکلف نے روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ نیٹو کے رکن ممالک پر کسی بھی حملے سے باز رہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں امریکا نے شمالی کیرولائنا میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر روسی وزیرِ خزانہ کی میزبانی بھی کی تھی۔