مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح پر
- برینٹ خام تیل کی قیمت 1.76 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے سے 97.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی
امریکا کے ایران پر تازہ حملوں اور تہران کے خلاف اسرائیل کی نئی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھنے کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں۔
گرینچ مین ٹائم کے مطابق 10:25 بجے برینٹ خام تیل کے سودے 1.76 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے سے 97.39 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے اور ابتدائی کمی ختم ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 1.91 ڈالر یا 2.1 فیصد بڑھ کر 92.92 ڈالر فی بیرل ہوگئے۔ دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافے کا امکان ہے، جبکہ کاروباری سیشن کے آغاز میں دونوں 6 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
ایران کے وزیر صحت نے بتایا کہ منگل کی شب امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں کیے گئے حملوں میں 8 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے۔ ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساحل کے قریب ایک شادی کی تقریب میں 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔
تازہ ترین حملے جولائی کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی جھڑپ ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے فوجی اور شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کی تنصیبات، کو ’’مفلوج‘‘ کردے گا۔
ساکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ کاٹز کے بیان نے خام تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے کو تقویت دی ہے۔
ابتدائی بحری جہازرانی کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو جاری ہونے والی معلومات میں بتایا گیا کہ بدھ کو 6 اجناس بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو ایک روز قبل گزرنے والے 11 بحری جہازوں کے مقابلے میں کم اور گزشتہ 10 روز کی اوسط تقریباً 13 بحری جہازوں سے بھی خاصے کم ہیں۔
یو بی ایس کے توانائی کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤن وو نے کہا، ’’عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث تیل کی منڈی میں رسد بدستور محدود ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی قیمتوں کو کچھ سہارا دیا ہوگا۔‘‘
دریں اثنا، ایران نے ان بحری جہازوں کی فہرست میں مزید جہاز شامل کردیے ہیں جنہیں وہ ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھتا ہے۔ ایران کے مطابق ایسے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں تو ان پر جرمانہ عائد، انہیں ضبط یا حراست میں لیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب عراق نے اگست میں اپنی تیل برآمدات بڑھا کر تقریباً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ کردیں، جو جولائی میں تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔ عراق کے دو توانائی حکام نے بدھ کو بتایا کہ ستمبر میں بھی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے، کیونکہ بھاری رعایتوں اور عراقی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت نے خریداروں کو متوجہ کیا ہے۔
وسیع تر مالیاتی منڈیوں میں تاجروں نے رواں ماہ کے آخر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکانات پر اپنی شرطیں بڑھا دی ہیں۔