کیش لیس معیشت، حکومت کا ڈیجیٹل مرچنٹس کا مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز
- گزشتہ ایک سال کے دوران ڈیجیٹل لین دین کی تعداد بڑھ کر 11.3 ارب جبکہ فعال ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد 2 ملین سے تجاوز کرگئی ہے
حکومت نے لین دین کی ریئل ٹائم نگرانی بہتر بنانے اور پاکستان کو کیش لیس معیشت کی جانب تیزی سے منتقل کرنے کے لیے ڈیجیٹل مرچنٹس کا مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈیجیٹل لین دین کی تعداد بڑھ کر 11.3 ارب جبکہ فعال ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد 2 ملین سے تجاوز کرگئی ہے۔
یہ تجویز بدھ کو وزارت خزانہ میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیش کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے کیش لیس پاکستان اقدام کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ جائزے کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، نادرا، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکا نے گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس دوران سالانہ ڈیجیٹل لین دین 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب ہوگیا، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد تقریباً 500,000 سے 4 گنا بڑھ کر 2 ملین سے زائد ہوگئی۔ ڈیجیٹل بینکاری صارفین کی تعداد بھی 135 ملین سے تجاوز کرگئی۔
اجلاس میں ڈیجیٹل لین دین کی نگرانی مضبوط بنانے اور ملک بھر میں مرچنٹس کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے مرکزی مرچنٹ ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔
شرکا نے قومی کیش لیس ڈیش بورڈ میں نئے تجزیاتی اشاریے شامل کرنے پر بھی غور کیا تاکہ ریئل ٹائم نگرانی، شفافیت اور کارکردگی کا بہتر جائزہ ممکن بنایا جاسکے۔ وزیر مملکت نے حکام کو رواں مالی سال کے لیے کیش لیس ڈیش بورڈ کے سالانہ کارکردگی اہداف مقرر کرنے کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں سرکاری اداروں (ایس او ایز) اور خودمختار اداروں کی جانب سے حکومتی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور وینڈرز، ملازمین اور پنشنرز کو کی جانے والی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
حکومت پہلے ہی حکومتی اداروں کی جانب سے شہریوں کو کی جانے والی ادائیگیوں (جی ٹو پی) کو ڈیجیٹل بنانے میں نمایاں پیش رفت کرچکی ہے، جس کے تحت مرکزی اور خود حساب رکھنے والے اداروں میں تقریباً 75 فیصد جی ٹو پی ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جارہی ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے حالیہ زی والیٹ اقدام کے آغاز کے موقع پر بھی کہا تھا کہ حکومت ہر جی ٹو پی لین دین کے لیے شہریوں کو کم از کم ایک ڈیجیٹل ادائیگی کا آپشن فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، جس میں ٹول ٹیکس، موٹر وہیکل لائسنس فیس اور یوٹیلیٹی بلز شامل ہیں۔
اجلاس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ شہری سرکاری اور نجی شعبے کے مختلف پلیٹ فارمز پر بلا رکاوٹ ادائیگیاں کرسکیں۔
وزیر مملکت نے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے شفاف، دستاویزی اور جامع معیشت کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیش لیس ایجنڈے پر تیزی سے عملدرآمد، عوامی سہولت میں بہتری اور پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی تبدیلی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے جائزے جاری رکھے جائیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026